Wednesday, 9 January 2013

Zeshan Work



Zeshan Shahzad was born in a lower middle class family on May 02, 1980 in Nawabpur district Multan, Punjab, Pakistan. When he grew up, he started understanding society and its prevailing injustices with weaker sections of society such as poor peasants, laborers, workers especially women and Non-Muslims. He is a strong believer of people freedom of rights, democratic values and social values. He is fighting for people’s rights from 20 years.
He started his work against the tragedy of Nawabpur (SANIH NAWABPUR)  that violate the women rights and respect, this young man raise his voice against this tragedy. It was soul stirring Nawabpur tragedy that eclipsed the poise and harmony of this land. It also caused the conscientious of this young man to brood on the dreadful state of affairs, as concerning the future of the women folk over here.  This young man later on formed an organization, with the main aim of rebuilding confidence among women, restoring dying values and diminishing male chauvinism and feudal mind set in the area from his school life.  After this he started struggle to fight against social injustices especially discrimination with women and religious minorities.
He started his work for some Hindu families of Nawabpur that were deprived from right, he mobilize to population for the rights of these few families that were facing many difficulties in this area and provide them protection and livelihood opportunities and also support a hindu women Balqees as councilor of Union council Nawabpur she elected and started work for minorities.
He worked hard for totally ignorant populations for their identification and rights, no Identity cards, no education no home and without basics of life. He becomes their leader and refuses for regular life luxuries like others. He stays with them and spends time with them to understand what causes and reasons are existing to make them satisfy this brutal and vicious life. He spent time with them, making movies of them for highlighting their issues and trying to deliver his knowledge. He started work for the CNIC and voter registration of thousand families of four union councils of Bosan Town almost he provided this facility to five to eight thousand families.
He started mobilization of youth and formed 300 youth groups in these union councils and after that capacitates to these youth groups and facilitate for the registration. Now almost 70 to 100 groups have got registration because of his efforts. Now youth is playing active role for the development of the area under the leadership of zeshan. 
In 1992 when this area hit by one of the most devastating flood, he started work for flood affected communities and provide rescue without threat of his life. He work with army and provide protection to vulnerable families. He provided overhead illuminations in the streets, conducted medical camps, Camps education and teach to children as teacher in the flooded areas and did a lot for the benefit of the deprived people of the marginalized areas of the milieu. The thematic focus of the organization clearly reflects the thinking of its founding father i.e. Zeshan Shahzad.
He also played an important role in highlighting the issues of landless farmers, tenants, peasants and women. He supported a lot to movement of landless farmers of Basti Ambwala and Binda Sandeela in getting land rights. He formed their groups and organized them to fight for their rights. That struggle today has become a movement of the area. The government has now engaged with the peasants to fulfill their demands. It will get success very soon.
He also worked hard for the development of some gipsy families for their right of shelter and other fundamental rights. These families of (Bast Moroon wali) were living even without drinking water after his struggle now it is a model village with their own shelters, school, livelihood opportunities, and drinking water.
His effort for organizing Pakistan Social Forum in Nawabpur Multan is another good job. He organized to Multan civil society for this event and completed many tasks.
He also formed a network of south Punjab NGO’s (SPNA) for Right leadership from local area by local people for local community. He has complete departments of R & D (Research and Development), marketing, and setup for model testing and standard systems for operations of these organizations.
He performed a prominent role in 2010 moon soon flood for flood affected communities of Multan, he provided them health and education facilities, food items, non food item, tents, protection and 250 permanent shelters to vulnerable communities in four union councils of Bosan Town Multan.
He also completed many projects on the platform of DASE, health, education, social harmony, human rights, community physical infrastructure, peace and human security, livelihood enhancement, agriculture development, good governance and disaster management. You can read detail in DASE profile.
He is also writer and poet; He wrote many article and poems on these issues and also produced documentaries film on these social issues. 

Some links of Zeshan’s struggle.


Friday, 28 December 2012

شوق سے شوکی تک

زندگی ہمیشہ ہی انتشار کا شکار رہی تھی۔ نہ گھر میں سکون نہ باہر آرام۔ پیدائش سے لڑکپن تک کے گھریلو حالات اور والدین کے درمیان ہونے والی حتمی علیحدگی نے شخصیت میں عجیب توڑ پھوڑ کی ۔
شوق سوچنے کا آغاز ہے ،شوق جاننے کی ارج ہے ، شوق بڑھنے کا جذبہ ہے اور میں بچپن سے ہی شوقین مزاجی سے مرعوب رہا ۔جب میری عمر کے بچے کارٹون دیکھتے تھے تو میں اچھا خاصا فلم بیں تھا لیکن میری اس فلم بینی کو بچپن سے ہی میرے خاندان والے تماش بینی گردانتے تھے ۔شوق ہمیشہ مجھے اپنی طرف بھرپور توانائی سے کھینچتا رہا اور خاندانی روایات بھی طاقت آزما رہیں اور میری ذات اس اس کھینچا تانی کی نذر ہو گئی ۔نہ میں عروج شوق پا سکا اور نہ خاندان ۔ مجھے اپنی حالت پہ فیض صاحب کا یہ شعر یاد آتا ہے ۔
نہ تن میں خون فراہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ اشک آنکھوں میں
نماز شوق تو واجب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے وضو ہی سہی
میرے سامنے حیرتوں کا ایک جہاں تھا اور میں اس جہاں کو جاننا چاہتا تھا۔سمجھنا چاہتا تھا۔اور یہ جہاں اپنی وسعتوں میں ایک نہ ختم ہونے والی داستاں۔ نت نئے تجربات و مشاہدات، میرے تجسس واضطراب میں اضافہ کرتے گئے ۔
میں نے جب اپنے وجود اور اپنی فکر و شعور کو محسوس کرنا شروع کیا توخود کو کئی حصاروں میں مقید پایا ۔۔۔روایتوں کا حصار ۔۔مجبوریوں کا حصار ۔۔۔۔۔۔نفرتوں کا حصار۔۔۔۔۔۔محبتوں کا حصار ۔۔۔۔۔خوف کا حصار۔۔۔۔۔محرومی کا حصار اتنے حصاروں میں ہاتھ پیر ہلانا بھی تکلیف دہ تھا لیکن سوچ آسماں چھونا چاہتی تھی ،اڑنا چاہتی تھی اور شوق پانا چاہتی تھی ۔
کبھی شعر و نغمہ کا شوق کبھی فلم بینی کا شوق تو کبھی پڑھنے کا شوق ، کبھی لکھنے کا شوق، جاننے کا شوق،کبھی تحریر و تقریر کا شوق ،کبھی فوٹو گرافی کا شوق تو کبھی سیر و سیا حت کا شوق مختصر یہ کہ میری اس شوقین مزاجی سے سبھی تنگ تھے میرے ہر شوق کے سامنے خاندانی شان و شوکت اور روایات کی اونچی اونچی دیواریں تھی اور میں بچہ تھا ابھی بچہ ۔۔۔۔۔اور میں تمام بچپن یہ دیواریں پھلانگتا رہا آخر پھلانگتے پھلانگتے میں بڑا ہو گیا اور دیوریں چھوٹی پڑگئیں ۔
تتلیوں اور پھولوں کے رنگ ، تتلیوں کے نئے نئے لباس میری آنکھوں کو خیرہ کرتے ، جگنوئوں کی تابانی و ضوفشانی میری آنکھوں میں چمک دمک پیدا کر دیتے اور کھلتے شگوفے میری زندگی میں مسکراہٹوں کا سبب تھے اور ستاروں کے ساتھ ساتھ چلنے کا شوق اور فلک کی وسعتوں میں کھو جانے کا شوق ۔میں کیا کرتا طبعیت ہی کچھ ایسی تھی ۔
یوں چلئے راہِ شوق میں جیسے ہوا چلے
اورمیں نا معلوم رستوں پر ہو ا ِ شوق کے ساتھ چلتا گیا نہ منزل ۔نہ ٹھکانہ اور پھر یوں ہوا کہ ان لا متناہی رستوں کا سفر زندگی کا سفر بن گیا ۔اس سفر میں کئی پڑائو پڑے لیکن پائوں کسی نامعلوم منزل کی طرف اٹھتےہی رہے اور منزل ایک سراب اور ہر منزل پہ پہنچ کے احسا س ہوتا کہ یہ تو محض پڑائو ہی ہے ۔
ایک دفعہ سردیوں کا موسم تھا مجھے گھر میں اکیلا کمرہ دیا گیا تھا جہاں میں نے اپنے تسکین ذوق کے مطابق نگار آرائی کےلئے مشہور و معروف بھارتی اداکارہ مادھوری کی تصویر لگائی تاکہ کمرے میں رونق رہے ۔ درحقیقت یہ کمرہ ایک سٹور روم تھا جہاں دادا کے زمانے کا ایک نہایت عمدہ لکڑی سے بنا بھاری بھرکم صندوقچہ پڑا تھا اور کمرے کے دونوں اطراف میں کچھ اور صندوقیں اور کچھ چارپائیاں رکھی تھیں ۔اور یہ سارا ماحول بندہ نا چیز کی طبع نازک کے خلاف تھا میری چارپائی صندوق کے بلکل ساتھ ہوتی تھی اور اسی صندوق پر میں نے تصویر لگا رکھی تھی کسی روز والد ِ محترم کمرے میں تشریف لائے اور مادھوری کی تصویر میرے بستر کے ساتھ والی صندوق پر دیکھی تو سخت برہم ہوئے اور روایتی رعب سے مخاطب ہوئے کہ اس پیر طریقت کو بستر میں سلا لینا تھا یہاں کیوں لگایا اسی وقت عالم خوف میں میں ہانپتے کانپتے میں نےوہ تصویر اتار دی لیکن کمبخت دل میں ایسی لگی کہ آج بھی سرور و راحت کا باعث ہے ۔
موسیقی سے رغبت ، شعر سے محبت ، کتاب سے لگائو اس سےآپ نصابی کتاب نہ مراد لے لیجیے گا وہ تو مجھے بچپن سے ہی نہایت نا پسند تھی بس امتحان کے دنوں میں تھوڑا بہت اسے کھول لیتے تھے اور ساتھ میں کچھ نوافل وغیرہ بھی ادا کر لیتے تھے اورپاس ہو جاتے تھے سوپتہ نہیں اس میں کمال کس کا تھا نوافل کا یا وغیرہ کا بہر حال ہمارا کوئی کمال نہیں تھا ۔ ورنہ جو بچہ سال بھر نہ پڑھے وہ کیسے پاس ہو سکتا تھا ۔میں سکول کہ طالب علمی کے دور میں سکول میں کم اور کالج ذیادہ جاتا تھا اور کالج کے طالب علموں سے میرے یارانے ہوتے تھے ۔خیر خدا خدا کرکے میٹرک پاس کر لی خاص طور پر ریاضی کی بہت فکر تھی کیونکہ حساب کتاب میں میں بہت کمزور تھا اور شائد میری اسی کمزوری کی وجہ سے زندگی نے خوب حساب کئے اور ہر حساب میں ہی خسارہ اٹھانا پڑا ۔
۔کالج کا دور شروع ہوا تو اسوقت تک کئی خیالات کو ہو ا لگ چکی تھی نوجوانی کا دور عروج پر تھا اب ایف ۔اے میں مضامین رکھنے کی باری آئی تو میں نے فلسفہ اور ادب کو ترجیح دی تو گھر میں خاصا واہ ویلا ہوا ۔خیر بڑے تکرار کے بعد مضامین کے انتخاب کا مرحلہ طے ہو ا ۔ اب مرحلہ تھا نصاب کی کتابوں کی خریداری کامیں نے پوری رات کتابوں کی فہرست تیار کی کہ چلو نصاب کے بہانے اور کتابیں بھی آ جائیں گی ۔اگلے دن میں نہایت بے چینی سے انتظار کر رہا تھا کہ کب والد صاحب بازار جانے کا کہیں گےآخر وہ وقت آ ہی گیا والد صاحب نے کہا چلو تمہیں کتابیں دلوا دوں میرے اندر تو خوشی سے لڈو پھوٹنے لگے کہ آج میری تمام پسندیدہ کتابیں میری لائبریری میں آجائیں گی میں والد محترم کے ساتھ بازار کتابیں خریدنے گیا اب کتابوں کی جو فہرست میں نے تیار کی اس میں نصاب کی کتابیں کم اور غیر نصابی کتابیں ذیادہ تھیں ۔ جیسا کہ قدرت اللہ شہاب کی شہاب نامہ، یوسفی کی تما م کتابیں ، منٹو کے افسانے ، ابن انشا کی کچھ کتابیں اور اس کے علاوہ بانو قدسیہ ، امریتا پریتم ، غلام عباس ، فراز ، فیض، غالب ، میر ،اردو تنقید ، مبارک علی ، سبط حسن ، علی عباس جلال پوری اور کئی دیگر معروف نام شامل تھے ۔
جب دوکاندار نے بل بنا یا تو وہ کچھ ذیادہ ہی ہوگیا جس سے والد صاحب آگ بگولہ ہو گئے اور طیش میں آکر دوکاندار سے بولے بھئی جی میں نے ایف ۔اے کا نصاب کہا تھا ۔پی ایچ ،ڈی کا نہیں۔اب میں اندر ہی اندر سے ڈر رہا تھا اور کانپ رہا تھا کہ اب کیا ہو گا۔اب دوکاندار مسکرا کر بولا جناب اس میں بہت ساری غیر نصابی کتب بھی شامل ہیں اب والد صاحب کی غضبناک نگاہیں مجھے گھور رہی تھیں میں نے اس پر علمی جوازات پیش کئے کہ میں نے ادب رکھا ہے تو اس طرح کی کتب کا مطالعہ ضروری ہے لیکن میرے تمام دلائل کونہایت بے ادبی سمجھا گیا اور والد صاحب کا اشتعال و کرودھ بڑھ گیا انہوں نے غیر نصابی کتابیں نکلوا دیں اور باقی لے لیں ۔والد صاحب کے اس غیض و غضب کے سامنے میں بے بس تھا سو مجھے خاموش ہونا پڑا اور محض نصابی کتابوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا ۔کالج طبیعت کو کچھ ذیادہ عرصہ راس نہ آیا صرف ایک ہی سال بعدنصابی تعلیم کو باقاعدہ خیرباد کہا اور گھر والوں کے لاکھ اصرار کے باوجود میں تعلیم جاری نہ رکھنے پر بضد رہا جس پر تمام گھر والے خاصے ناراض ہوئے اور آخر کا ر ایک بے کار پرزے کی طرح مجھے پھینک دیا گیا جو شائد اب کسی کام کا نہیں ۔
غرض میرے ہر شوق کا مذاق اڑایا گیا یا پھراسے میرے بچپن کی حماقت سمجھا گیا ۔میرے اس شعور و فکر کو جب خاندان میں کوئی پذیرائی نہ ملی کیونکہ اس میں فکر کے ساتھ نئی پود کے کچھ اضافی خوبیاں بھی تھیں جو خاندانی وقار کے منافی تھی ۔جب گھر اور ارد گرد کے ماحول میں کوئی پذیرائی نہ پائی تو شوق کے پائوں کچھ گمنام کوچوں کی طرف اٹھ گئے جہاں شوق کا بڑا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا اور شوق کو خوب سراہا گیا جس سے مرتے شوق میں زندگی آنے لگی ۔شوق آسودگی پانے لگا ۔ یہ یا روں کی محفل تھی جہاں دن رات دھوئیں اڑائے جاتے تھے ۔انہی کوچوں میں گھومتے گھومتےکسی روز شوق کی ملاقات شوکی سے ہوئی ۔شوکی ایک دبلا پتلا علیل ناساز اور زندگی سے سخت برہم اور مایوس جوان تھا جس کی زندگی مقصدیت اور رنگوں سے عاری تھی جواری ہونے کی وجہ سے وہ زندگی کو ایک جو ا سمجھتا تھا اور اس جوے میں بھی وہ تمام عمر ہارتا ہی رہا مسلسل ہار اور تلخیوں نے اس کی ذات کو توڑ پھوڑ دیا اور طبیعت میں چڑ چڑا پن پیدا کردیا ۔شوکی کا ایک ڈیرہ تھا جو دھتکارے ہوئوں کا بسیرا تھا پورے شہر میں اس ڈیرے کی شہرت کے ڈنکے بجتے تھے جس سے نام نہاد شرفا خاصے خائف تھے ۔جیتنے کی خواہش میں شوکی سارا جیون جوے میں ہار بیٹھا تھالیکن پھر بھی اپنی انا اور خوداری کو قائم رکھنے کے لئے شوکی نے کئی بھیس بدلے ،کبھی شوکی فصلوں والاتو کبھی شوکی لنڈے والا ،کبھی شوکی ہوٹل والا تو کبھی شوکی بسوں والااس سارے کچھ کے ساتھ ساتھ وہ یاروں کا دوا دارو بھی فروخت کرتا تھا شوکی جب بھی جوا ہارتا تو ناپ تول یاروں پہ ہی بھاری پڑتا اس لئے یار اس کی سدا جیتنے کی منتیں مانگتے تھے اور وہ سدا سے ہی ہارا ہوا جواری تھا ۔شوکی کے ڈیرے کی رونقیں صبح سویرے ہی بیدار ہوجاتیں کیونکہ یاروں کی محفل صبح تڑکے ہی شروع ہو جاتی تھی اور پھر رات بھر دھواں تھا، یار تھےاور ہم تھے دوستو!
شب و روز یاروں کی محفل میں خوب گذرنے لگا روز دھوئے کے ساتھ کئی قصے اٹھتے اور پھر دھوئے کی طرح ختم ہو جاتے ۔میں بھی اپنی فکر و دانش اور فلسفہ پیش کرتا تو خوب پذیرائی ملتی جاننے پر معلوم پڑتا کہ سمجھ تو کچھ نہیں آیا پذیرائی اس لئے دی کی یار کی بات ہے غلطی کا تو امکان ہی نہیں یاروں کی یہ معصوم محبت مجھے ہمت دیتی بھی اور توڑتی بھی ۔اس سارے کچھ میں نجانے کب شوق دھوئیں کے ساتھ اڑ گیا اور شوق کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں دھوئیں کا عادی ہو گیا روز دھوئیں اڑاتا کہ شائد کسی روز کسی دھوئیں کے ساتھ شوق واپس آ جائے ۔لیکن گیا وقت کب واپس آیا ہے۔یاروں کی محافل میں ،میں نے محسوس کیا ہے کہ یار لوگ عام لوگوں سے ذیادہ حساس ہوتے ہیں ۔سب یار فرار چاہتے تھے۔ جب ادراک وشعور بیدار ہو جائے تو حساسیت بڑھ جاتی ہے اور حساسیت چین نہ پائے توفرار اختیار کر نا چاہتی ہے ۔ہم سب مفروری کی اس زندگی سے خوب لطف اندوز ہو رہے تھے ۔شوق جو دھوئیں میں تحلیل ہو گیا تو دھواں ہی شوق بن گیا ۔

سرائیکی وسیب کے جھوٹے وارث

گیلانی صاحب جب سے آئے ہیں ایک ہی تان لگائے بیٹھے ہیں اور وہ بھی ان کے شعروں کی طرح بے سری تان جس میں کومل کی جگہ تیور اور تیور کی جگہ کومل سر لگا دئیے ہیں ۔سرائیکی تحریک کی تاریخ سے آگہی نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود کو سرایئکی صوبے کا وارث سمجھ بیٹھے ہیں اور بار بار ایک ہی آلاپ لگا رہے ہیں کہ ان کو سرایئکی صوبے کی آواز اٹھانے کے جرم کی پاداش میں نااہل کیا گیا ہے جبکہ ان کی اہلیت اور فکر ودانش روز روشن کی طرح پوری قوم بلکہ پورے عالم پر عیاں ہیں کہ کس طرح آپ نے اپنے فہم و ادراک سے رعایا کی قسمت بدل دی اور آپ کی شعر فہمی قوم کےلئے مثال بن گئی کہ اب واقعی ادب مررہا ہے ۔ملک کے بادشاہ کے شعر شناسی کے اس عالم پر اگر میر و غالب اور اقبال و فیض حیات بھی ہوتے تو خود کشی کر جاتے ۔
لگتا ہے ہم دیو مالائی دور میں رہ رہے ہیں جہاں ابھی تک ایسے پیر اپنی گدیوں کے سحر عوام پر طاری کرکے عوامی حقوق اور امنگوں کا قتل عام کر رہے ہیں جانے کب ان کے جادو ٹونے کا سحر ختم ہو اور عوام ان کا اصل روپ دیکھ سکے۔
آج گیلانی صاحب کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ ملک کی عدالت نے گیلانی کو نا اہل قرار نہیں دیا بلکہ اسی ہزار لوگوں کو نا اہل قرار دیا ہے ۔شائد یہ ان کا سیاسی بچپن ہے وگرنہ حقائق یہ ہیں
عدالت کے تفصیلی فیصلہ کے مطابق آئینی آرٹیکل 204 میں عدالت کو یوسف رضا گیلانی کو سزا دینے کا اختیار ہے اور یہ سزا 2003ء کے توہین عدالت آرڈیننس کے تحت دی گئی، اس پر نااہلی آئین کے آرٹیکل 63 ون جی کے تحت ہوئی ، یوسف رضاگیلانی ، عدالت کی تضحیک اور توہین کے مرتکب ہوئے ، سزا پر اپیل نہ آئی اس کی وجہ سے فیصلہ حتمی ہوگیا ، فیصلہ میں کہاگیا ہے کہ آرٹیکل 63 ون جی کے تحت پارلیمنٹرین ، مجرم ہوجائے تو اسپیکر کا صوابدیدی اختیار نہیں رہتا،آئینی تقاضا تھا کہ نااہلی کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا جاتا، ایسا نہ کرکے اسپیکر قومی اسمبلی نے قانونی اختیار سے تجاوز کیا،عدالت نے قرار دیا کہ پارلیمنٹرین کی اہلیت سے متعلق اسپیکر کے فیصلہ پر عدالتی نظرثانی ہوسکتی ہے، عوامی عہدے پر غیر قانونی قبضہ ختم کرنے کیلئے عدالت کو اختیار ہے، اس بارے میں 1960ء کے بعد سے کئی فیصلے آچکے ہیں،فیصلہ میں لکھا گیاہے کہ نااہل شخص کی طرف سے عہدے پر براجمان رہنا تشویشناک امر ہے،وزیراعظم خود غیرقانونی اقدام کرے تو باقی ریاستی مشینری کیسے حکمرانی یا قانون قائم کرے گی،جسٹس جواد خواجہ کا نوٹ ہے کہ پارلیمنٹ کی خودمختار سے متعلق قدیمی برطانوی تصور ، اب قابل عمل نہیں،پاکستان میں آئین کو تمام اداروں بشمول پارلیمنٹ، پر برتری حاصل ہے، آرٹیکل 190،کے تحت تمام ادارے سپریم کورٹ کی معاونت کے پابند ہیں، آئین ، عوام کی منشا ہے، آئین پر عمل کرنا جمہوریت ہےاب اس پر گیلانی صاحب خفا ہیں ۔
اب ذرا سرائیکی سوبے تحریک کی داستاں ملاحظہ فرمائیں ۔۔ تاریخی حقائق کے مطابق سرائیکی صوبے کا تصور سب سے پہلے تحریک بحالی صوبہ بہاولپور کے رہنما ریاض ہاشمی ایڈووکیٹ نے پیش کیااور ساتھ ہی صوبہ سرائیکستان کا نقشہ بھی پیش کیا اور وہ سرائیکی صوبہ محاذ کی پہلی سینئر نائب صدر تھیں۔ وہ آخری دم تک سرائیکی صوبے کے لئے جدوجہد کرتی رہیں۔
1975 میں ملتان میں پہلی کل پاکستان علمی ادبی ، سرائیکی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں سرائیکی وسیب کے تمام علاقوں سے سرایئکی راہنمائوں نوابزادہ مامون الرشید، بریگیڈیئر نذیر علی شاہ، حاجی سیف اللہ خان اور افضل مسعود خان سمیت سینکڑوں افراد نے سرائیکی صوبے کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔ 5 اپریل 1984 کو سرائیکی صوبہ محاذ کا تاسیسی اجتماع قاری نور الحق قریشی نے ملتان میں منعقدکیا ۔ بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ سرائیکی صوبہ محاذ کے پہلے صدر منتخب ہوئے جو کہ نہایت مقدم بات تھی اوروہ آج تک یہ جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ سیٹھ عبید الرحمٰن پہلے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔اسوقت سرائیکی صوبہ محاذ کی میٹینگز سابق وفاقی وزیر ملک فاروق اعظم کےگھر پر ہوا کرتی تھیں ۔
اس زمانے میں سابق وفاقی وزیر ملک فاروق اعظم کے گھر پر سرائیکی صوبہ محاذ کے اجلاس منعقد ہوا کرتے تھے۔علاوہ ازیں احمد پور شرقیہ کے مشہور قانون دان اکبر علی انصاری پاکستان سرائیکی پارٹی کے تاسیسی اجلاس میں شامل تھے۔ ملک صدیق سکندر ایڈووکیٹ احمدپور شرقیہ میں افضل مسعود خان کے گھر پر اس کتاب کی تقریب رونمائی میں موجود تھے جس پر سب سے پہلے باقاعدہ سرائیکی صوبے کا نقشہ شائع کیا گیا ۔
معروف صحافی ظہور احمد دھریجہ جن کا تعلق خان پور سے تھا ،نے 80 کی دہائی میں سرائیکستان صوبے کے لیے آواز بلند کی اور باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیااور آج تک سرائیکی زبان کی ترقی ،سرائیکی ثقافت کے فروغ اور سرائیکیوں کی شناخت کےلئے سرگرم عمل ہے ان کی علمی اور ادبی کاوشوں سے پہلا سرائیکی اخبار جھوک شائع ہو اجو اسوقت سرائیکی وسیب کےتین اضلاع سے بیک وقت شائع ہو رہا ہے اورانہوں اپنی زیست سرائیکی صوبے کےلئے وقف کر دی ۔ایک اور نامور سرگرم شخصیت عبدالمجید خان کانجو سرائیکی صوبے کےلئے جن کی کاوشوں کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔عبدالمجید خان کانجو رحیم یار خاں کے معروف زمیندار اور بزرگ سیاسی راہنماہیں وہ 17 مارچ 1989 کو بہاولپور میں ایک الیکشن میں اے این پی سرائیکستان کے صدر منتخب ہوئے۔ انتخاب کے روز ہی انہوں نے سرائیکی عوام کے حقوق کی جنگ شروع کر دی اور اندرون فرید گیٹ ایک شدید اجتجاجی مظاہرہ کیا جس میں سرائیکی صوبے کا بھرپور مطالبہ کیا گیا اور یہی وہ عبدالمجید خان کانجو تھے جنہوں نے بعد میں سرائیکی نیشنل پارٹیکی بنیاد رکھی
اور 2 اکتوبر 1998 کو اسلام آباد میں پونم کے ایک تاریخی چارٹر پر یاداشتی دستخط کیے جس کے تحت پاکستان کو پانچ قومی صوبوں میں بانٹنےکا تقاضا کیا گیا عبدالمجید خان کانجو نے اپنی زندگی کے قیمتی پچیس سال سرائیکی صوبے کے لئے وقف کردئیے اور لاکھوں کروڑوں کے وسائل بھی عطیہ کر دئے
اس کے علاوہ ایک اور قد آور شخصیت صاحبزادہ محمد دائود خان عباسی ہیں جنہوں نے سرائیکی قومی اتحاد کی بنیاد رکھی۔ بعد میں اس جماعت کی قیادت کرنل( ر ) عبدالجبار خان عباسی نے سنبھالی اور سرائیکی وسیب اور سرائیکی جماعتوں میں اتحاد و ہم آہنگی پیدا کرنے کےلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کی تشکیل کی جسے سرائیکستان نیشنل محاذکے نام سے جانا جاتا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف سرائیکی صوبے کا حصول تھا
ایک اور عظیم کارکن 95 سالہ مرید حسین راز جتوئی سرائیکی صوبہ تحریک کے معمر ترین سیاسی کارکن ہیں۔ انکا تعلق بھی خان پور سے ہے۔انہوں نے سرائیکی زبان اور سرائیکی صوبےکےترویج و قیام کے لئے ہر وقت کوشاں ہیں آپ نے الگ اور خود مختار سرائیکی صوبے کے لئے ہزاروں خطوط لکھے اور عوامی حلقوں کو ارسال کئے آج انکے فرزند مجاہد حسین حق و بغاوت کا یہ الم اٹھائے سرائیکی قومی موومنٹ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں
اگست 1998میں معروف قوم پرست اجمل خان خٹک کی قیادت میں سرائیکی وسیب کے دیگر قوم پرست راہنمائوں جن میں مغل اعظم کانجو اور عبدالمجید کانجو نے ملتان میں ایک معاہدہ کیا جس میں یہ طے پایا کہ سرائیکی جماعتوں کے ساتھ مل کر سرائیکی صوبے کےلئے اجتماعی جدوجہد کی جائے گی اس موقع پر چار لوگوں کو سرائیکی راہبر کے لقب سے نوازا گیا جن میں بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ، عبدالمجید خان کانجو ، حمید اصغر شاہین اور مرزا اعجاز بیگ شامل ہیں
اسکے علاوہ اکتوبر 1998 کو اسلام آباد میں سندھ، بلوچستان، سرائیکی وسیب اور خیبر پختونخواہ ہزاروں راہنمائوں نے پونم کا چارٹر
منظو ر کیا اس چارٹر کی رو سے بہاولپور کو صوبہ سرائیکستاں میں شامل رکھا گیا ۔اس چارٹر کو پاس کرنے والے راہنمائوں میں
اکتوبر 1998 کو اسلام آباد میں سندھ، بلوچستان، سرائیکی وسیب اور خیبر پختونخواہ کے معروف رہنمایان سید امداد حسین شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، جلال محمود شاہ، رسول بخش پلیجو ، عطاء اللہ مہنگل، ڈاکٹر عبدالحی، محمود خان اچکزئی، اجمل خان خٹک، غلام احمد بلور، تاج محمد خان لنگاہ، حمید اصغر شاہین، ایم اے بھٹہ، میاں منصور کریم سیال، منظور احمد خان بوہڑ، محمد علی مہدی گردیزی، احمد نواز سومرو، اسد اللہ خان لنگاہ، عبدالمجید خان کانجو، ( رحیم یار خان ) اور کے کے کورائی ( رحیم یار خان ) وغیرہ شامل تھے۔
اپریل 1999 میں پونم سرائیکستان کے زیر اہتمام ملتان قلعہ کہنہ قاسم باغ پر ایک جلسہ عام ہوا جس میں بہاولپور کے سیاسی کارکنوں نے بھی بھرپور شرکت کی ۔
ان سب کے ساتھ ایک گراں قدر شخصیت کوٹ سمابہ کے سیاسی کارکن ریاض حسین کھرل ہیں جنہوں نے اپنی انتھک کاوشوں سے 1997 میں مردم شماری کے فارم میں سرائیکی زبان کو شامل کرنے کےلئے مسلسل اجتجاج کیا ۔
اس کے علاوہ کئی اور نام جنہوں نے اپنے شب وروز اس جدوجہد میں وقف کئےان میں بستی دڑہ جمال ضلع رحیم یار خان کے سیاسی کارکن خالد محمود خان ڈاہا ، احمد پور شرقیہ کے افضل مسعود خان، محمد اکبر انصاری، شبیر احمد لکھیسر ، ممتاز عاصم ایڈووکیٹ ،کریم نواز انصاری ،ممتاز حسین جائی ،خواجہ غلام فرید کوریجہ ،ایم اے بھٹہ،علامہ اقبال وسیم ، شبیر احمد لکھیسر اور ریاض حسین پیرزادہ شامل ہیں اور اس کے علاوہ بہاولپور کے حاجی عبدالمالک نے دھوپ میں داڑھی سفید نہیں کی بلکہ سرائیکی صوبہ کی جدوجہد میں ان کا یہ حال ہوا۔ عبداللہ ساقی سیال، امتیاز چنڑ، شاکر حسین، قاضی عبدالوحید، رئیس وحید ، خورشید بخاری، غیور بخاری ، حبیب اللہ خیال، حافظ قادر بخش میتلا، قاضی عبدالوحید اور ملک اکبر ، رحیم یار خان کے مخدوم رکن الدین عالم ، خواجہ انور عالم اور خسرو بختیار کوئی عام لوگ نہیں اورنہ ہی ان کے کردار کو کبھی فراموش کیا جا سکتا ہے۔ سرائیکی صوبے کے لئے ان کی خدمات کلیدی اہمیت رکھتی ہیں اور ان سب سے بڑھ کر ملتان کی ساجدہ احمد خان لنگاہ بنتِ سرائیکستان خاتون ہو کر ہمیشہ فعال کردار ادا کیا اور اس جد و جہد میں اب تک مصروف عمل ہیں یہ ہیں سرائیکی صوبے کے بانی وسچے وارث جنہوں نے اس تحریک کو اپنے خون سے سینچا ہے ۔
اور آج گیلانی صاحب کہتے ہیں کہ وہ سرائیکی صوبے کے وارث ہیں شائد انجانے میں وہ اس عظیم تحریک کو گدی سمجھ بیٹھے ہیں

جمہوریت یا سراب

آج پاکستان کی طرح تیسری دنیا کا ہر جمہوری ملک الیکشن سے پہلے مخفی یا صریحی خانہ جنگی ، غلط نظام حکومت ، کرپشن، صحت اور تعلیم کی کمی، نااہل انتظامیہ اور بے پناہ عوامی مباحثوں میں مبتلا ہے۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان مسائل اور خود مغربی جمہوریت کے درمیان ایک علتی تعلق موجود ہے۔اس کے باوجود ممکنہ حد تک ان مسائل کا حل صرف اور صرف جمہوریت میں ہے۔جمہوریت لوگوں کے ذریعے، خوشحالی، برابری ، شفافیت ، شخصی آزادی اور یکجانیت کیساتھ متساویت کی جانب مائل کرتی ہے۔ اور اس بات کی شہادت کیلئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔جمہوریت تین بنیادی اصولوں پر محیط ہے ۔
*آپ کو آزادی سے ووٹ دینے کا حق
*آپ کو آزادی سے جمہوری دفاتر چلانے کا حق
* اکثریت کو قانون کے تابع رہ کر حکومت کرنے کا حق
جمہوریت آزادیء اظہار اور لوگوں کو جمہوری عمل کے ساتھ جڑنے کے حق کی ضمانت دیتی ہے اور اسکی کیا وجہ ہے کہ جمہوریت کو کیوں برابری، کارکردگی اور خوشحالی کی ضمانت دینی چاہیے۔اس لئے کہ درحقیقت جمہوریت کا اہم ترین اصول ایک ایسے عمل کو پروان چڑھانا ہے جو آزادی اور خوشحالی کے لئے معاشرے کی رہنمائی کرے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں کچھ غیر جمہوری قوتوں کی وجہ سے جمہوری نظام ،متشکک انتخابات، سیاسی غلامی، نابرابری ، نااہلی اور بے انتہا کرپشن کا شکار رہا ہے ۔لیکن یہ سب کچھ جمہوری اداروں اور جمہوری نظام کے خلاف ایک نہایت منظم شازش کے تحت ہوا ہے اور یہ سازش ان غیر جمہوری طاقتوں نے کی ہے جو پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط و مستحکم ہوتا اور پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے۔
جمہوری نظام کی کمزوری کے اہم محرکات :
*نااہلی اور کم مدت منصوبہ بندی
*غیر ذمہ دارانہ رویہ اور سماجی تصادم
*دوسروں کے معاملات میں مداخلت
*مجموعیت اور اطاعت
*کرپشن اور طاقت کا ناجائز استعمال
پاکستان ایک سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں قیام میں آیالیکن اس کے وجود کو62 برس گذر جانے کے بعد بھی جمہوریت اور جمہوری رویے پروان نہیں چڑھ سکے اور چڑھیں بھی کیسے پندرہ پندرہ برس یا نو نو برس کے متشدد ، بنیاد پرست اور غیر جمہوری دورانیوں کے بعد جب تین یا چار جمہوری سالوں پر بے جاتنقید اور شور وغل شروع ہو جائے تو پھر کیسے جمہوریت پروان چڑھے گی ۔اور ایسا ہی ایک بار پھر ہو رہا ہے۔
ابھی چار سال ہی گذرے ہیں کہ جمہوریت کو درپیش خطرات سر اٹھانے لگے ہیں ۔آج جمہوریت اقتصادی ، سماجی، سیاسی اور بین الااقوامی محاذوں پرکثیر پہلو چیلنجز سے نبرد آزما ہے ۔ پاکستان میں جمہوریت کی بالا دستی کو قائم رکھنے کیلئے ایک دانشمندانہ سوچ کی ضرورت ہے جو ہر شہری کے اندر موجود ہونا لازم ہے ۔تبھی یہ نظام مضبوط ہو سکتا ہے ۔تذبذب کے بادل پاکستان کے جمہوری نظام پر منڈلا رہے ہیں ۔ایک اہم خدشہ متواتر فوجی مداخلت کا ہے جو سیاسی اور جمہوری نظام کو پرورش پانے سے روک سکتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں جو کہ جمہوریت کی نرسری ہیں خود ابھی جدید اور جمہوری سطور پر قائم نہیں ۔ موجودہ حالات میں سیاسی لیڈر شپ ایک نا پسندیدہ گروہ بن گیا ہے ۔ایک عام آدمی کا رحجان سیاسی شخصیات سے ناپسندیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن وہ سیاسی شخصیات اور سیاسی اداروں میں تفریق نہیں کر سکتااس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوری اداروں اور نظام کے برقرار رکھنے کیلئے عام لوگوں میں شعور اجاگر کیا جائے۔
جمہوریت کے استحکام کیلئے آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ نہایت ضروری ہے لیکن ان کے لئے بھی کچھ اقدار اور اخلاقیات کی پاسداری کرنا اور جمہوری اداروں کی عزت اور احترام بہت ضروری ہے۔بدقسمتی سے میڈیا برائے نام اخلاقی اور قانونی حدود کا خیال رکھتا ہے ۔سوداگری یا تجارت پرستی کبھی کبھار اسے برائے نام صحافت کیلئے ورغلا دیتی ہے یا مجبور کر دیتی ہے جب میڈیا عوامی اور قومی مفاد ایک طرف رکھ دیتا ہے اور عوامی رائے قائم کرنے کیلئے حقائق کو مسخ کر کے عوام میں پیش کرتا ہے معاشرے میں جہاں تعمیری تنقید نے اہم اور مثبت کردار ادا کرنا ہوتا ہے ۔ وہاں میڈیا کو درست حقائق بیان کرنے ہوتے ہیں جو کہ عموماْ میڈیا نہیں کرتا اور نتیجہ کے طور پر عوام کے اندر نا مناسب اورنا واجب تنقید اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور عوام غصے میں قانون کی پرواہ کئے بغیر جمہوریت کی بانگ درا آلاپنے لگتی ہے جبکہ جمہوریت کا ایک اہم پہلو قانون کی بالادستی کو قائم کرنا بھی ہے شائد محض سروں کی گنتی کو ہی جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے اور اس کا ذمہ دار میڈیا ہے ۔جمہوریت محض سروں کی گنتی یا انتخاباتی مشق ہی نہیں بلکہ یہ کچھ اصول و ضوابط کا مجموعہ ہے جسکی بنیاد آزادی، انسانی تحفظ، برابری اور برداشت کے تصورات پر مبنی ہے ۔انتخابات جمہوریت کا ایک منشور ہے اور اس انتخابی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ جاگیردارانہ سوچ اور برادریوں کا ناجائز اثر و رسوخ ہے جو کہ لوگوں کے حق آزادی کو سلب کرنے کے برابر ہے ۔
عوام کو آزادی سے جمہوری عمل میں شمولیت سے روک دیا گیا ہے ہمارے ملک میں آج بھی جاگیر دارانہ نظام کسی نہ کسی شکل میں غالب ہے اور عوام ایک محکوم و مغلوب رعایا کی طرح ان کے حد اختیار میں زندگیاں گذارنے پر مجبور ہیں ۔اور وہ اس سیاسی اور جمہوری عمل میں کبھی متحرک شرکت دار نہیں بن سکتے ۔

چھوٹے صوبے وفاق پر اپنا اعتماد کھو چکے ہیں ۔فوج شاہی اپنے مطالبات اور مفادات کو تر ویج دے رہی ہے اور وہ حقیقی قانونی و آئینی حقوق سے انکاری ہے۔اگرچہ موجودہ جمہوری حکومت نے بلوچوں سے غیر مشروط معافی بھی مانگی لیکن کوئی حقیقی اقدامات نہ کئے گئے بلکہ بلوچستان میں متشدد اورتکلیف دہ عمل جاری رہا جس سے حالات سنگین ہوتے گئے اور آج بلوچستان کے الگ ہونے کی باتیں ہونے لگی ہیں اس سب کی ذمہ دار جمہوری حکومت ہے جو اپنے ماتحت اداروں کو تابع نہیں رکھ سکتی اور نتیجے میں ان اداروں کی طاقت کا بے لگام استعمال قومی انتشار بڑھاتا ہے اور اسکی گندگی پھر جمہوری حکومت پر گرتی ہے ۔
سیاسی جماعتیں جمہوریت کیلئے ٹھوس بنیادیں فراہم کرنے اور پارلیمنٹ کو عظیم ادارہ بنانے کیلئے جمہوریت کے بنیادی ادارے ہیں ۔اس لئے سیاسی جماعتوں کی دوبارہ منظم ہونے اور جماعت کو جمہوری سطور پر لانا ہوگا اور انہیں عوامی اور مقامی طور پر جماعتی تنظیموں کی جڑوں کو نچلی سطح پر مضبوط کرنا ہوگا۔اور اسی سطح پر عوامی رابطہ کاری کیلئے اور سہولیات فراہم کرنے کیلئے رابطہ کاری دفاتر قائم کرنے ہونگے ۔میں یقین رکھتا ہوں کہ صرف سیاسی جماعتیں ہی سیاسی عمل میں عوام کی بھرپور شمولیت کو یقینی بنا سکتی ہیں اور جمہوری اقدار کو لوگوں کے دلوں پر نقش کر سکتی ہیں ۔پاکستان میں جمہوری عمل کی مضبوطی کیلئے سیاسی عمل میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی رضا کارانہ شمولیت ایک ٹھوس بنیاد بن سکتی ہے ۔
پارلیمنٹ ایک عوام کا منتخب کردہ ادارہ ہے جو براہ راست عوام کو جوابدہ ہے اور کئی دیگر طاقت ور اداروں سے جواب طلب ہے ۔عوام تو اپنے حقوق کیلئے پارلیمنٹ سے جواب طلب کر رہی ہے لیکن پارلیمنٹ اپنے تابع اداروں سے جواب طلبی میں مصلحت اور سست روی کا شکار ہے جسکی وجہ ہم سب جانتے ہیں ۔
ایگزیکٹو کو ہر حال قابل احتساب ہونا چاہیے اور تمام فیصلے پارلیمنٹ کو ہی کرنے چاہیے یہ جمہوریت کو تقویت دے گا ۔عدلیہ ریاست کا نمایاں اور اہم ترین ستون ہے ۔ایک آزاد ، اہل اور کار گذار عدلیہ ہی سوسائٹی میں سماجی انصاف کو یقینی بنا سکتی ہے عدلیہ ستم زدہ اور ناراض شہریوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے تاکہ وہ اپنی شکایات کے حق کو استعمال کر سکیں ۔اگر لوگ تلافی کیلئے قانونی راستہ اختیار کریں تو غیر قانونی مہم جوئی کے امکان کم ہوتے ہیں ۔اس لئے آزاد عدلیہ مضبوط جمہوریت کی چابی ہے ۔اس لئے عدلیہ کو چاہیے کہ وہ جمہوری اداروں اور جمہوری نظام کے استحکام کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کر ے کیونکہ اسی سے عدلیہ اور قانون کی بالادستی قائم ہو سکے گی ۔
جمہوریت کے استحکام کیلئے سیاسی کارکنان کو اچھی روایات قائم کرنی چاہیے۔ طاقت کی پیاس ، عدم برداشت اور کرپشن نے پاکستان کی سیاست کو طاعون زدہ بنا دیا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ پرانے رواجوں کو بدلا جائے اور نئی جمہوری روایات قائم کی جائیں ۔
جمہوری نظام کیلئے سیاسی جماعتوں کو اپنے ڈھانچوں میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے ۔اس پر کوئی دوسری رائے نہیں کہ جمہوریت پاکستان کیلئے بدیہی شرط اور نہایت لازم ہے اگر ہم بین الااقوامی حلقے میں پاکستان کی عزت چاہتے ہیں ۔لیکن گذشتہ 62 برس میں اس نے
اندوہ گیں توصیف پیش کی ہے اور موجودہ حالات کے خدشات اس منظر کو اور بد تر بنا رہے ہیں ۔لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس پیچیدہ صورتحال کو بدلنے کیلئے بہتری کا کوئی دروازہ نہیں ۔تاریخ ثابت کرتی ہے جو قومیں بقاء کی آرزو رکھتی ہیں انہیں زندگی میں کئی کٹھن مراحل سے گذرنا پڑتا ہے لیکن یہ سود مند تشہیر اسوقت بہروپ معلوم ہوتی ہے جب منظر عام پر کوئی تبدیلی نہ آئے اور بات محض نعروں تک رہ جائے۔ ہمارے پاس ان کوہ پیکر مسائل سے نبردآزما ہونے کیلئے ہمت اور جذبہ موجود ہے بس ہمیں اتحاد، یقین ،نظم اور راہنمائی کی ضرورت ہے ۔ موجودہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ملک میں موجود تمام جمہوری طاقتیں اجتماعی سوچ کے ساتھ کوئی ٹھوس اقدامات کریں ۔اور شائد یہی وقت ہے کہ غیر جانبدارانہ طور پر جمہوریت اور سیاسی نظام کی بقاء کیلئے عوامی آواز کو سامنے لایا جائے ۔

کیا خبر کوئی مار دے مجھے کافر کہہ کر

ڈر اور خوف انسان کی فطرت میں ہے ۔انسان نے جب آنکھ کھولی تو اپنے ارد گرد آدم خور درندوں کو پایا ۔اور وہ اکیلا آدم ان درندوں سے خود کو محفوظ رکھنے کیلئے کئی تدبیریں سوچتا رہا اور اس طرح اس نے اپنے ہی جیسے انسانوں کو ڈوھونڈنا شرو ع کردیابہت تگ و دو کے بعد اسے اپنے جیسی کوئی مخلوق ملی تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور اس طرح اس آدم ذات نے ایک قبیلے یا سوسائٹی کی بنیاد رکھی جس میں ایک فرد کی ضرورتیں دوسرے فرد سے جڑی تھیں اور وہ انسان ایک دوسرے کو عزت،محبت اور تحفظ فراہم کرتے تھے ۔ایک قبیلہ یا سو سائٹی بنا لینے کے بعد انسان نے خود کو انتہائی محفوظ محسوس کیا اور اسی احساس کے باعث ان قبیلوں اور سوسائٹیوں کا دائرہ کار بھی بڑھتا گیا ۔
لیکن آج کا انسان پھر خوفزدہ ہے اور خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے لیکن اب خوف آدم خور درندوں کا نہیں بلکہ اپنے ہی انسانوں کا ہے جو اپنی انتہا پسند نظریات اور مذہبی جنونیت کی وجہ کسی بھی طرح سے آدم خور درندوں سے کم نہیں ۔ اور اس پر ظلم تو یہ کہ وہ اس درندگی کا انسانوں کی سوسائٹیوں میں کھلے عام مظاہرہ کرتے پھر رہے ہیں اور ہم بے بس، لاچار اور مجبور انسان خوف کی خاموش تصویر بنتے جا رہے ہیں۔
گذشتہ دنوں گورنر سلمان تا ثیرکے ہونے والے بہیمانہ قتل نے جہاں ماحول کو سوگوار کیا ہے وہی کچھ سوال بھی چھوڑے ہیں ؟ جن کا جواب شائد گردشِ حالات اور سیاسی بیانات کی نذر ہو جائے گا۔
1927سے لیکر 1986 تک توہین رسالت کے صرف سات کیس سامنے آئے لیکن ضیا الحق کے دور میں ہونے والے ترامیم 295B اور 295C کے بعد 1986 سے اب تک 1058 مقدمات درج ہو چکے ہیں جن میں 60% غیر مسلم اور 40% مسلمان شامل ہے۔
بلاِ سفیمی لاء کی بھینٹ چڑھنے والوں میں اکثریت معصوم بے گناہ غیر مسلموں کی ہے ۔
کبھی 84 سالہ بوڑھے عیسائی والٹر فضل خان کے زمین سستے داموں فروخت نی کرنے کے جرم میں پھسایا جاتا ہے تو کبھی گوجرہ میں انسانوں کو زندہ جلایا جاتا ہے۔۔۔۔۔اپریل 2009 میں چار احمدی طالب علم بچے بھی اس قانون کی نذر ہو چکے ہیں ۔۔۔۔کوٹری سٹی کا رہائشی 29 سالہ محنت کش ستار مسیح بھی لقمہ اجل بن چکا ہے۔ ۔۔۔۔۔کبھی بچوں کی لڑائی مذہبی لڑائی میں بدل جاتی ہے تو سلامت مسیح چار عیسائی لوگوں سمیت اس قانون کا نشانہ بنتا ہے۔۔۔۔کبھی 55 سالہ مستاق ظفر کو اس جرم کے الزام میں قتل کر دیا جاتا ہے تو کبھی 35 سالہ نسیم بی بی پولیس کے گینگ ریپ کے بعد اس قانون کا شکار بنائی جاتی ہے اوراسکا ٹرائل شروع ہونے سے پہلے حوالات میں ہی قتل کر دیا جاتا ہے ۔اسی طرح 20 اور معصوم اور بے گناہ لوگوں کو ان قوانین کے الزام میں عدالتی کاروائی کے بجائے قتل کردیا گیا۔ اور اب ایک اور غیر مسلم غریب بھٹہ مزدور آسیہ بی بی کو اس کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اور جب انسان دوست گورنر سلمان تاثیر نے معصوم آسیہ بی بی کی ہمدردی میں حق بات کہی اوراس قانون کو کالا قانون کہا تو اسے بھی توہینِ رسالت کا مجرم قرار دے کر قتل کر دیاگیا۔اتنے سارے بے گناہ انسانوں کو نگل جانے والاقانون کالا ہے یا سفید اس کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے
وہ نبی ﷺ جس نے پتھر کھا کر لوگوں کو دعائیں دی کوڑے کا ڈھیر پھینکے والی بوڑھیا کی تیمہ دارہ کی آج اس کی خاطر ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں جو سراسر اسکی تعلیمات کے منافی ہے میرے نقطہ نظر سے توہین رسات کا مرتکب گورنر نہیں بلکہ وہ قادری ہے ۔کیونکہ اس نے ایسا عمل کیا ہے جو رسول پاک کے خدا کی نظر میں نہایت ناپسندیدہ فعل ہے۔
مذہبی سیاسی قوتیں جو اپنی پروہت کی دوکان چمکانے کیلئے پہلے ہی تیار بیٹھے تھیں اس موقعہ سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور معصوم لوگوں کو گمراہ کرکے ایسے اندھاروں میں دھکیل دیا جہاں محبت، امن اور تحفظ کی کرن ایک خواب بن کر رہ گئی۔وہ خود کو ایک مثبت متبادل کے طور پر پیش کرنے لگے جن کے پاس مفادپرستی اور انتہا پسندی کے علاوہ محنت کش طبقے اور عوام کیلئے کوئی معاشی و معاشرتی ایجنڈا نہیں۔
قرآن پاک کے پارہ نمبر 5 سورۃ نمبر 4 سورۃ النسا آیت نمبر 93 میں واضح ارشاد ہے۔
اور جو انسان ایک مومن کو ارادتاْ نیت کرکے قتل کرے تو اُس گناہ کی سزا جہنم ہے اور وہ ہمیشہ اس میں رہے گا ،اللہ کا غضب اس پر ہوگا اور اس پر اللہ کی لعنت ہو گی اور اللہ نے اس قاتل کیلئے ایک عظیم عذاب تیار کیا ہوگا۔
اس کے علاوہ اسلام میں قتل کو پانچواں عظیم گناہ قراردیا گیا ہے اور ہمارے اس معاشرے میں اس جرم میں مرتکب ایک شخص کے استقبال میں سلامی پیش کی جاتی ہے اور پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں۔خدا اس پر لعنت بھیج رہا ہے اور ہم شاباش دے رہے ہیں ۔گورنر کو تو گستاخِ رسول کہہ کر قتل کر دیا گیا اور یہ جو اتنے سارے گستاخِ خدا ہیں ان کو کیا سزا دی جائے۔
قرآنِ پاک میں ایک اور جگہ پارہ نمبر 6 سورۃ نمبر5 سورۃ المائدہ آیت نمبر32 میں ارشاد فرمایا ہے
جس نے ایک انسان کا قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا

جتنا والہانہ استقبال ہم ایک قاتل کا کر رہے ہیں مستقبل میں ہمارے بچے ڈاکڑ،انجینئر اور استاد نہیں بلکہ قاتل بننا پسند کریں گے یہ ہے ہمارا مستقبل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ہر باشعور،پڑھا لکھا اور دانشور اس ملک کو چھورنا چاہتا ہے ۔کیا اپنے بچوں کو ان انتہا پسندوں کے حوالے کرنا درست ہے یقیناًنہیں ۔بے شک ترقی پسند طبقہ کمزور ہے اور تقسیم کا شکار ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ اس شدت پسندی کے خلاف یہ طبقہ ضرور منظم ہو گا۔کیونکہ یہی طبقہ انتہا پسندی کے اندھاروں میں ایک مشعل بن سکتا ہے۔

ۤۤائو کہ کوئی خواب بنیں کل کے واسطے

سحر لدھیانوی کا یہ مصرعہ ایک روشن کل کی امید ہے ایک ایسی روشن کل جس کی فکر ہر ذی شعور اور خواب دیکھنے والے کیلئے حسرت و یاس بنتی جا رہی ہے ۔اور یہ خواب دیکھنے والے ہی ہیں جو آج کی انتہا پرستی اور بنیاد پرستی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھی ممکنات کا چاند تلاش کرتے ہیں اور چاند ہے کہ معشوقہ کی طرح نہ ماننے پر بضد۔
آج کے دور میں خواب اور خواب دیکھنے والے دونوں ہی بہت اہم ہیں کیونکہ دنیا کا حسن ان کے وجود سے ہے اور انہی کے دم سے حیات کا وجود ہے بلکہ خود کائنات کا وجود ہے یہ خواب ہی ہیں جو انسان کو زندہ رکھتے ہیں اور عمل پر اکساتے ہیں اور حقیقت کی طرف پیش قدمی میں معاونت کرتے ہیں وگرنہ انسان بھٹک جائے اور مادیت پرستی کی ایک ایسی دنیا میں چلا جائے جہاں محض بھیانک خواب ہوں ،پیسے کا خواب، راج کا خواب ،تخت کا خواب ،تاج کا خواب ،اور ہوس کا خواب، آج ہر شخص انہی خوابوں کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے ۔
تبھی حسین خواب ہم سے روٹھ گئے ہیں تتلیوں کے خواب ،جگنوؤں کے خواب ،محبت کے خواب ، کچے گھڑوں کے خواب ،بدلتے موسموں کے خواب ،نغمہ و ساز کے خواب ،علم و دانش کے خواب ، تخلیق کے خواب ،اور جمالیاتی ذوق کے خواب۔
خوابوں میں ہوس بیدار ہو جائے تو خواب ٹوٹ جاتے ہیں اور ٹوٹے ہوئے خواب شعور کیلئے عذاب بن جاتے ہیں ۔درحقیقت منفی یا بھیانک خواب زندگی کی ترتیب و ربط اور حسن بگاڑنے کیلئے ہیں اور دھرتی کو آب و گیاہ بنانے کیلئے ہیں ۔
آئیں حسین خوابوں کی بات کرتے ہیں ۔میں بہت چھوٹا تھا جب جگنوؤں کی جگ مگ میرے وجود و شعور کو روشن کردیتی ۔روشنیوں کا یہ جزیرہ ،طلسمات کا جہاں ،روشنی کا کلام یہ میرے لئے انمول خواب ہے ۔
پھر تتلیوں کے خواب جو مجھے کسی پرستاں کی دلکش پریاں محسوس ہوتی تھیں اور میرا بہت جی چاہتا کہ ان کے ساتھ اڑ جاؤں اور پرستان کی سیر کروں ۔ان سے کوئی مدھر پرستانی گیت سنوں اور کو ہ قاف کے طلسماتی دجود کو محسوس کروں اور کائنات کے طلسم کو جاننے کی سعی کروں ایسے حسین خوابوں نے میرے جمالیاتی ذوق کو بیدار کیا سو میرے لئے یہ بیش بہا قیمتی سرمایہ ہیں ۔
علم و دانش کے خواب جنہوں نے مجھے فلسفہ سے آگہی دی افلاطون و ارسطو کی منطقی سوچ سے روشناس کرایا ۔دیو مالائی دور کی دلچسب کہانیوں سے لے کر سائنس کی نت نئی ایجادات سے واقفیت بخشی ،سائنس و آرٹس کے کئے جہاں وا کئے ۔یہ میرے لئے آبِ حیات جیسا تھا کیوں کہ اس سب سے پہلے میں ایک مردہ زندگی گذار رہا تھا ۔اس مردہ سوچ کو ان علوم نے زندگی عطا کی اور زندگی کو کئی خزانوں سے مالامال کر دیا خواب جاگتی آنکھوں کے ہوں یا پھر سوئی آنکھوں کے یکساں اہم ہیں اور ان کا مقصد تعبیر ڈھونڈنا ہے اور خوابوں کی تلاش کا یہ عمل انسان کو بہت سکھاتا ہے نئے نئے معیارات ،عادات اور شخصیات سے متعارت کراتا ہے ۔ایسے خوابوں کو روندنے والے بہت ہیں اور دوام دینے

والا کوئی نہیں ۔زندگی میں بہت سے خواب ہیں ۔رنگ برنگے خواب جن کا حسن آپ کی شخصیت سے منعکس ہوتا ہے اور جو آپ کو علم و آگہی کی وادی میں لے جاتے ہیں۔جہاں رنگ ہیں ،پرندے ہیں ،جھرنے ہیں ،پیار ہے ، حسن ہے، نغمہ ہے ،شاعری ہے، کہانی ہے کردار ہیں
ایسے ہی کئی حسین خواب ہر انسان کے اندر خوابیدہ ہیں انہیں جگانے یا بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔جب خوابیدہ خواب جاگ جاتے ہیں تو زندگی آپ کے لئے بھرپور ہوجاتی ہے اور یاسیت و قنوطیت چھٹ جاتی ہے اور انسان زندگی کے رنگوں کا لطف محسو س کرنے لگتا ہے اس طرح خواب کی تحریک کا عمل بھی تحریک پکڑ جاتا ہے ۔
آج ہمارے عہد کی نام نہاد عقل پرستی اور تیز رفتاری نے خواب دیکھنے کے عمل کو بے کیف بنا دیا ہے کیونکہ عقل ہر شے کو نفع ،نقصان کے ترازو میں تولتی ہے اور اگر نقصان کا تھوڑا بھی خدشہ ہو تو وہ اپنے قدم روک دیتی ہے ۔اور اس کے بر عکس خواب نفع ، نقصان سے بے نیاز ہو کر ان دنیاؤں میں لے جاتے ہیں جن کا عقل خوف کے مارے سوچ بھی نہیں سکتی ۔عقل کی ایک حد ہے اور خواب لامتناہی ۔۔۔لامحدود ۔عقل منطق ہے اور خواب گیان ۔۔۔۔وجدان ، عقل بنے بنائے فارمولوں کے تابع ہے اور خواب بے کراں نت نئے معیارات و ایجادات۔
عقل ماورائے عقل تک رسائی نہیں رکھتی اس لئے انکار کر دیتی ہے ۔اسی لئے ماوراء ایک بھید بن گیا ہے۔اور درحقیقت ماوراء کے شعور سے محرومی ذات کے شعور سے محرومی ہے ۔
ہمیں لوگوں کو حسین خواب دکھانے ہوں گے اپنے خواب دوسروں کو دکھانا بہت کٹھن ہے وہی حسین خواب جو ہم نے دیکھے ہو بہو کسی اور کو دکھانا بہت مشکل کام ہے ۔ لیکن انسان دوستی کی خاطر ہمیں یہ مشکل سرانجام دینا ہی ہو گا اور یہی ہمارے خوابوں کا منتہائے مقصود بھی ہے ۔

جنسی تکمیل (مضمون)

آج جب ہم یہ کہتے ہیں کہ انسانی شعور نے ترقی کر لی ہے اور ہم ایک تہذیب یافتہ اور تعلیم یافتہ نسل کے باشندے ہیں اور ہم نے ترقی کے
کئی جہاں فتح کرلئے ہیں اور دنیا جہاں کی معلومات ہماری مٹھی میں ہیں ۔لیکن کچھ معاملات میں ہمارا علم اور شعور ابھی بھی نا پختہ ، تنگ نظر اور قدامت پرست ہے ۔
نجانے کیوں ہم کچھ الفاظ کو اپنے تصورات کے معانی پہنا کر لطف بے لذت محسوس کرتے ہیں ایسا ہی ایک لفظ ،سیکس یا جنس ہے جسکو سنتے ہی ہمارے خیالات میں ایک بھونچال سا آجاتا ہے اور ہمارا وجود ٹوٹنے لگتا ہے ۔اور کچھ لوگ تو اس لفظ ہی کو گناہ عظیم گردانتے ہیں۔ تصورات میں گندگی پیدا ہو جائے تو الفاظ مجرم بن ہی جاتے ہیں۔چاہے اس سے جو بھی مراد لیا جا رہا ہو ہمارے ذہن میں صرف اس کا ایک ہی معنی ہے۔۔۔۔۔یقیناًآ پ سمجھ گئے ہوں گے۔
انسان کی زندگی کے کئی پہلو ہیں کئی حسین و لطیف پہلو جو فطرت کا عکس ہیں اور ان سے منعکس ہونے والے رنگ ہماری زیست کو تروتازہ رکھے ہوئے ہیں ۔ایسا ہی ایک اہم پہلو جنسی و تولیدی صحت کا ہے جس کی ضرورت آنے والے وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ جنسی و تولیدی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں جس سے بے راہ روی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔آج ہمارے معاشرے کو اس پر جس قدر سنجیدہ سوچ بچار کرنے کی اور تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت ہے اس سے پہلے نہ تھی لیکن غیر سنجیدگی ، بنیاد پرستی اور قدامت پرستی کی وجہ سے موضوع پر بات کرنا ناممکن ہو گیا ہے اور اہم ترین جنسی مسئلے کو شجر ممنوع قرار دے دیا گیا اور اگر کسی نے اسے چھو لیاتو اس جرم کی پاداش میں اسے جنت سے نکال دیا گیا اور اس پر عذاب نازل کئے گئے اورجنت سے دھتکارے جانے کے خوف سے کئی انسانوں نے لاعلمی کے اندھیرے اپنا لئے یا غلاف اوڑھ لئے اس جاہلانہ روش کی وجہ سے انسانوں کی جنسی و تولیدی صحت کئی خطرات سے دوچار ہے خاص طور پر نوجوانوں کی صحت کیونکہ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب لہو کے ہر قطرے میں سنسی پیدا ہو رہی ہوتی ہے اور اس کے جسم میں کئی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہوتی ہیں لڑکپن سے بلوغت کا مرحلہ نہایت نازک مرحلہ ہے کیونکہ اس میں کئی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں گردن کا موٹا ہونا، بانہوں کے پٹھوں میں اینٹھن سی پیدا ہونا، کنٹھ نکل آنا ،سینے پر گوشت کی تہہ کا موٹا ہونا اور پستانوں میں گولیاں سی بن جانا، احتلام و حیض کا آنا، ماہواری کا شروع ہو جانا یہ حیاتیاتی تبدیلیاں نوجوانوں میں تکلیف دہ سر سراہٹ کے ساتھ ساتھ کئی نئے احساسات کو بھی جنم دیتی ہیں ۔اگر ان حالات میں اس کی درست راہنمائی نہ کی جائے تو وہ بھٹک سکتا ہے اور ایک عجیب قسم کی آوارگی اس کے دماغ میں سریت کرسکتی ہے جو اس کیلئے تباہ کن ہو سکتی ہے۔کچی عمر کے خوابوں کی تعبیر کا جوش زندگی بھر کا روگ بن جاتا ہے۔اس لئے خوابوں کو درست سمت دینا اور معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ کر نا ہماری ذ مہ د اری ہے ۔جس کو والدین اور استاتذہ بخوبی سر انجام دے سکتے ہیں ۔
جس طرح بھوک اور پیاس ایک فطری جبلت ہیں اسی طرح سیکس بھی ایک فطری جبلت ہے اور آدمیت کے ارتقا ء و آغاز کا باعث ہے

ایک طرف طاقتور جنسی طلب کی تسکین اورپھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خلد سے بے دخل کئے جانے کا خوف لیکن غلطی تو آدم کی سرشست میں ہے اور وہ غلطی کر بیٹھتا ہے ۔اور خاص طور پر ان حالات میں جب اسے کوئی راہنمائی کرنے والا ہی نہ ہو ۔حقائق سے آنکھ مچولی کا کھیل آگہی کی منازل سے دور لے جاتا ہے اور انسان انہی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتا ہے ۔جنسی تکمیل و شناخت کو کھلی آنکھ سے قبول کرنے میں ہی آفیت ہے وگرنہ جنسی بے راہروی شدت اختیار کر جائے گی ۔جنسی تغیرات کا علم و شعور ہمیں اس بے راہروی اور بے جا پریشانی سے نجات دلا سکتا ہے اوراس طرح ایک صحت مند معاشرہ قائم ہو سکتا ہے ۔معلومات تک رسائی میں کمی کی وجہ سے بعض اوقات نوجوان تخلیق کے عظیم مقصد کو بھلا کر گناہ بے لذت سے دوچار ہوتے ہیں جنس اگر انسان کے دماغ میں گھس جائے تو جنسیت بن جاتی ہے جو انسان کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے ان غیر فطری عوامل کی وجہ سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کئی قسم کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں ۔اس دوران بعض اوقات لڑکیاں حاملہ ہو جاتی ہیں اور معاشرتی قدامت پرستی اور بنیاد پرستی کے خوف سے وہ اسے چھپانا چاہتی ہے اور اس طرح وہ مقامی دائیوں یا پریکٹیشنرز کی خدمات حاصل کرتی ہیں اور غیر محفوظ اور غیر مناسب مراحل سے گذرتی ہیں جس سے یا تو موت واقع ہوتی ہے یا پھر تولیدی صحت کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جو ان کی زندگی میں کئی الجھاؤ پیدا کرسکتے ہیں ۔اسکے علاوہ اگر شادی شدہ جوڑے میں غیر متوقع حمل ہو جائے تو اسے زائل کرانے میں بھی کئی قباحتیں ہیں اور عموما ایسے معاملات میں پیشہ ور ڈاکٹرز بھی پروہت کاری کا مظاہر ہ کرتے ہیں سہولیات اور معلومات سے عدم دستیابی کے باعث انسان اور خصوصا نوجوان مختلف قسم کی جنسی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں ۔غیر محفوظ جنسی طریقہ استعمال سے انسانی تو لیدی صحت متاثر ہو رہی ہے اور نوجوان مختلف بیماریوں کا شکار ہیں ۔جن میں ایچ،آئی ،وی ایڈز ،ہیپا ٹائٹس بی ،
(کیلی میڈیا )طفیلی جرسومہ جوکے اندھے پن یا بانچھ پن کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔اسکے علاوہ آتشک جوکہ ایک جلدی بیماری ہے ، اور خارش کی وجہ سے پھیلتا ہے ایک اور خطرناک مرض سوزاک جو مرد نوجونوں میں عام ہے اس سے عضو تناسل میں جلن ،پیپ اور خون آنے لگتا ہے ،
ہرپس(جلد کو کھا جانے والا زخم)ہے جو عموما منشیات کرنے والوں غربت و خوارک کی کمی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے ایک اہم مرض ہے اور
مرض خبیثہ کا پھوڑاجو سوفٹ کینسر کا باعث ہے ۔ان تمام خطرناک مسائل کے با وجود ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے جس سے پیچیدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں ۔
تولیدی صحت کے مسئلہ کو خاطر خواہ توجہ نہ دینے کی وجہ سے زچہ بچہ کی اموات کی روک تھام کوئی غیر معمولی فرق نہیں پڑا آج بھی پاکستان میں روزانہ 89 اموات واقع ہو رہی ہیں اورغیر مناسب اقدامات کی وجہ سے ہم یہ قیمتی زندگیاں گنوانے پر مجبور ہیں ۔ہماری ریاست کئی بین الااقوامی کانفرنسوں میں اتفاق رائے سے یہ تسلیم کر چکی ہے کہ نوجوانوں اور بالغوں کی خصوصی ضروریات کو پورا کیا جائے گا لیکن معاملہ تسلیم اور آمادگی سے ذیادہ آگے بڑھ نہیں سکا۔خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے کے باعث نوجوانوں کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے لیکن ریاست اس پر کوئی پالیسی وضع کرنے میں بری طرح ناکام ہے ۔