زندگی
ہمیشہ ہی انتشار کا شکار رہی تھی۔ نہ گھر میں سکون نہ باہر آرام۔ پیدائش
سے لڑکپن تک کے گھریلو حالات اور والدین کے درمیان ہونے والی حتمی علیحدگی
نے شخصیت میں عجیب توڑ پھوڑ کی ۔
شوق سوچنے کا آغاز ہے ،شوق جاننے کی
ارج ہے ، شوق بڑھنے کا جذبہ ہے اور میں بچپن سے ہی شوقین مزاجی سے مرعوب
رہا ۔جب میری عمر کے بچے کارٹون دیکھتے تھے تو میں اچھا خاصا فلم بیں تھا
لیکن میری اس فلم بینی کو بچپن سے ہی میرے خاندان والے تماش بینی گردانتے
تھے ۔شوق ہمیشہ مجھے اپنی طرف بھرپور توانائی سے کھینچتا رہا اور خاندانی
روایات بھی طاقت آزما رہیں اور میری ذات اس اس کھینچا تانی کی نذر ہو گئی
۔نہ میں عروج شوق پا سکا اور نہ خاندان ۔ مجھے اپنی حالت پہ فیض صاحب کا
یہ شعر یاد آتا ہے ۔
نہ تن میں خون فراہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ اشک آنکھوں میں
نماز شوق تو واجب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے وضو ہی سہی
میرے سامنے حیرتوں کا ایک جہاں تھا اور میں اس جہاں کو جاننا چاہتا
تھا۔سمجھنا چاہتا تھا۔اور یہ جہاں اپنی وسعتوں میں ایک نہ ختم ہونے والی
داستاں۔ نت نئے تجربات و مشاہدات، میرے تجسس واضطراب میں اضافہ کرتے گئے ۔
میں نے جب اپنے وجود اور اپنی فکر و شعور کو محسوس کرنا شروع کیا توخود کو
کئی حصاروں میں مقید پایا ۔۔۔روایتوں کا حصار ۔۔مجبوریوں کا حصار
۔۔۔۔۔۔نفرتوں کا حصار۔۔۔۔۔۔محبتوں کا حصار ۔۔۔۔۔خوف کا حصار۔۔۔۔۔محرومی کا
حصار اتنے حصاروں میں ہاتھ پیر ہلانا بھی تکلیف دہ تھا لیکن سوچ آسماں
چھونا چاہتی تھی ،اڑنا چاہتی تھی اور شوق پانا چاہتی تھی ۔
کبھی شعر و
نغمہ کا شوق کبھی فلم بینی کا شوق تو کبھی پڑھنے کا شوق ، کبھی لکھنے کا
شوق، جاننے کا شوق،کبھی تحریر و تقریر کا شوق ،کبھی فوٹو گرافی کا شوق تو
کبھی سیر و سیا حت کا شوق مختصر یہ کہ میری اس شوقین مزاجی سے سبھی تنگ تھے
میرے ہر شوق کے سامنے خاندانی شان و شوکت اور روایات کی اونچی اونچی
دیواریں تھی اور میں بچہ تھا ابھی بچہ ۔۔۔۔۔اور میں تمام بچپن یہ دیواریں
پھلانگتا رہا آخر پھلانگتے پھلانگتے میں بڑا ہو گیا اور دیوریں چھوٹی
پڑگئیں ۔
تتلیوں اور پھولوں کے رنگ ، تتلیوں کے نئے نئے لباس میری
آنکھوں کو خیرہ کرتے ، جگنوئوں کی تابانی و ضوفشانی میری آنکھوں میں چمک
دمک پیدا کر دیتے اور کھلتے شگوفے میری زندگی میں مسکراہٹوں کا سبب تھے اور
ستاروں کے ساتھ ساتھ چلنے کا شوق اور فلک کی وسعتوں میں کھو جانے کا شوق
۔میں کیا کرتا طبعیت ہی کچھ ایسی تھی ۔
یوں چلئے راہِ شوق میں جیسے ہوا چلے
اورمیں نا معلوم رستوں پر ہو ا ِ شوق کے ساتھ چلتا گیا نہ منزل ۔نہ ٹھکانہ
اور پھر یوں ہوا کہ ان لا متناہی رستوں کا سفر زندگی کا سفر بن گیا ۔اس
سفر میں کئی پڑائو پڑے لیکن پائوں کسی نامعلوم منزل کی طرف اٹھتےہی رہے اور
منزل ایک سراب اور ہر منزل پہ پہنچ کے احسا س ہوتا کہ یہ تو محض پڑائو ہی
ہے ۔
ایک دفعہ سردیوں کا موسم تھا مجھے گھر میں اکیلا کمرہ دیا گیا تھا
جہاں میں نے اپنے تسکین ذوق کے مطابق نگار آرائی کےلئے مشہور و معروف
بھارتی اداکارہ مادھوری کی تصویر لگائی تاکہ کمرے میں رونق رہے ۔ درحقیقت
یہ کمرہ ایک سٹور روم تھا جہاں دادا کے زمانے کا ایک نہایت عمدہ لکڑی سے
بنا بھاری بھرکم صندوقچہ پڑا تھا اور کمرے کے دونوں اطراف میں کچھ اور
صندوقیں اور کچھ چارپائیاں رکھی تھیں ۔اور یہ سارا ماحول بندہ نا چیز کی
طبع نازک کے خلاف تھا میری چارپائی صندوق کے بلکل ساتھ ہوتی تھی اور اسی
صندوق پر میں نے تصویر لگا رکھی تھی کسی روز والد ِ محترم کمرے میں تشریف
لائے اور مادھوری کی تصویر میرے بستر کے ساتھ والی صندوق پر دیکھی تو سخت
برہم ہوئے اور روایتی رعب سے مخاطب ہوئے کہ اس پیر طریقت کو بستر میں سلا
لینا تھا یہاں کیوں لگایا اسی وقت عالم خوف میں میں ہانپتے کانپتے میں نےوہ
تصویر اتار دی لیکن کمبخت دل میں ایسی لگی کہ آج بھی سرور و راحت کا باعث
ہے ۔
موسیقی سے رغبت ، شعر سے محبت ، کتاب سے لگائو اس سےآپ نصابی کتاب
نہ مراد لے لیجیے گا وہ تو مجھے بچپن سے ہی نہایت نا پسند تھی بس امتحان
کے دنوں میں تھوڑا بہت اسے کھول لیتے تھے اور ساتھ میں کچھ نوافل وغیرہ بھی
ادا کر لیتے تھے اورپاس ہو جاتے تھے سوپتہ نہیں اس میں کمال کس کا تھا
نوافل کا یا وغیرہ کا بہر حال ہمارا کوئی کمال نہیں تھا ۔ ورنہ جو بچہ سال
بھر نہ پڑھے وہ کیسے پاس ہو سکتا تھا ۔میں سکول کہ طالب علمی کے دور میں
سکول میں کم اور کالج ذیادہ جاتا تھا اور کالج کے طالب علموں سے میرے
یارانے ہوتے تھے ۔خیر خدا خدا کرکے میٹرک پاس کر لی خاص طور پر ریاضی کی
بہت فکر تھی کیونکہ حساب کتاب میں میں بہت کمزور تھا اور شائد میری اسی
کمزوری کی وجہ سے زندگی نے خوب حساب کئے اور ہر حساب میں ہی خسارہ اٹھانا
پڑا ۔
۔کالج کا دور شروع ہوا تو اسوقت تک کئی خیالات کو ہو ا لگ چکی
تھی نوجوانی کا دور عروج پر تھا اب ایف ۔اے میں مضامین رکھنے کی باری آئی
تو میں نے فلسفہ اور ادب کو ترجیح دی تو گھر میں خاصا واہ ویلا ہوا ۔خیر
بڑے تکرار کے بعد مضامین کے انتخاب کا مرحلہ طے ہو ا ۔ اب مرحلہ تھا نصاب
کی کتابوں کی خریداری کامیں نے پوری رات کتابوں کی فہرست تیار کی کہ چلو
نصاب کے بہانے اور کتابیں بھی آ جائیں گی ۔اگلے دن میں نہایت بے چینی سے
انتظار کر رہا تھا کہ کب والد صاحب بازار جانے کا کہیں گےآخر وہ وقت آ ہی
گیا والد صاحب نے کہا چلو تمہیں کتابیں دلوا دوں میرے اندر تو خوشی سے لڈو
پھوٹنے لگے کہ آج میری تمام پسندیدہ کتابیں میری لائبریری میں آجائیں گی
میں والد محترم کے ساتھ بازار کتابیں خریدنے گیا اب کتابوں کی جو فہرست میں
نے تیار کی اس میں نصاب کی کتابیں کم اور غیر نصابی کتابیں ذیادہ تھیں ۔
جیسا کہ قدرت اللہ شہاب کی شہاب نامہ، یوسفی کی تما م کتابیں ، منٹو کے
افسانے ، ابن انشا کی کچھ کتابیں اور اس کے علاوہ بانو قدسیہ ، امریتا
پریتم ، غلام عباس ، فراز ، فیض، غالب ، میر ،اردو تنقید ، مبارک علی ، سبط
حسن ، علی عباس جلال پوری اور کئی دیگر معروف نام شامل تھے ۔
جب
دوکاندار نے بل بنا یا تو وہ کچھ ذیادہ ہی ہوگیا جس سے والد صاحب آگ بگولہ
ہو گئے اور طیش میں آکر دوکاندار سے بولے بھئی جی میں نے ایف ۔اے کا نصاب
کہا تھا ۔پی ایچ ،ڈی کا نہیں۔اب میں اندر ہی اندر سے ڈر رہا تھا اور کانپ
رہا تھا کہ اب کیا ہو گا۔اب دوکاندار مسکرا کر بولا جناب اس میں بہت ساری
غیر نصابی کتب بھی شامل ہیں اب والد صاحب کی غضبناک نگاہیں مجھے گھور رہی
تھیں میں نے اس پر علمی جوازات پیش کئے کہ میں نے ادب رکھا ہے تو اس طرح کی
کتب کا مطالعہ ضروری ہے لیکن میرے تمام دلائل کونہایت بے ادبی سمجھا گیا
اور والد صاحب کا اشتعال و کرودھ بڑھ گیا انہوں نے غیر نصابی کتابیں نکلوا
دیں اور باقی لے لیں ۔والد صاحب کے اس غیض و غضب کے سامنے میں بے بس تھا سو
مجھے خاموش ہونا پڑا اور محض نصابی کتابوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا ۔کالج
طبیعت کو کچھ ذیادہ عرصہ راس نہ آیا صرف ایک ہی سال بعدنصابی تعلیم کو
باقاعدہ خیرباد کہا اور گھر والوں کے لاکھ اصرار کے باوجود میں تعلیم جاری
نہ رکھنے پر بضد رہا جس پر تمام گھر والے خاصے ناراض ہوئے اور آخر کا ر ایک
بے کار پرزے کی طرح مجھے پھینک دیا گیا جو شائد اب کسی کام کا نہیں ۔
غرض میرے ہر شوق کا مذاق اڑایا گیا یا پھراسے میرے بچپن کی حماقت سمجھا
گیا ۔میرے اس شعور و فکر کو جب خاندان میں کوئی پذیرائی نہ ملی کیونکہ اس
میں فکر کے ساتھ نئی پود کے کچھ اضافی خوبیاں بھی تھیں جو خاندانی وقار کے
منافی تھی ۔جب گھر اور ارد گرد کے ماحول میں کوئی پذیرائی نہ پائی تو شوق
کے پائوں کچھ گمنام کوچوں کی طرف اٹھ گئے جہاں شوق کا بڑا گرمجوشی سے
استقبال کیا گیا اور شوق کو خوب سراہا گیا جس سے مرتے شوق میں زندگی آنے
لگی ۔شوق آسودگی پانے لگا ۔ یہ یا روں کی محفل تھی جہاں دن رات دھوئیں
اڑائے جاتے تھے ۔انہی کوچوں میں گھومتے گھومتےکسی روز شوق کی ملاقات شوکی
سے ہوئی ۔شوکی ایک دبلا پتلا علیل ناساز اور زندگی سے سخت برہم اور مایوس
جوان تھا جس کی زندگی مقصدیت اور رنگوں سے عاری تھی جواری ہونے کی وجہ سے
وہ زندگی کو ایک جو ا سمجھتا تھا اور اس جوے میں بھی وہ تمام عمر ہارتا ہی
رہا مسلسل ہار اور تلخیوں نے اس کی ذات کو توڑ پھوڑ دیا اور طبیعت میں چڑ
چڑا پن پیدا کردیا ۔شوکی کا ایک ڈیرہ تھا جو دھتکارے ہوئوں کا بسیرا تھا
پورے شہر میں اس ڈیرے کی شہرت کے ڈنکے بجتے تھے جس سے نام نہاد شرفا خاصے
خائف تھے ۔جیتنے کی خواہش میں شوکی سارا جیون جوے میں ہار بیٹھا تھالیکن
پھر بھی اپنی انا اور خوداری کو قائم رکھنے کے لئے شوکی نے کئی بھیس بدلے
،کبھی شوکی فصلوں والاتو کبھی شوکی لنڈے والا ،کبھی شوکی ہوٹل والا تو کبھی
شوکی بسوں والااس سارے کچھ کے ساتھ ساتھ وہ یاروں کا دوا دارو بھی فروخت
کرتا تھا شوکی جب بھی جوا ہارتا تو ناپ تول یاروں پہ ہی بھاری پڑتا اس لئے
یار اس کی سدا جیتنے کی منتیں مانگتے تھے اور وہ سدا سے ہی ہارا ہوا جواری
تھا ۔شوکی کے ڈیرے کی رونقیں صبح سویرے ہی بیدار ہوجاتیں کیونکہ یاروں کی
محفل صبح تڑکے ہی شروع ہو جاتی تھی اور پھر رات بھر دھواں تھا، یار تھےاور
ہم تھے دوستو!
شب و روز یاروں کی محفل میں خوب گذرنے لگا روز دھوئے کے
ساتھ کئی قصے اٹھتے اور پھر دھوئے کی طرح ختم ہو جاتے ۔میں بھی اپنی فکر و
دانش اور فلسفہ پیش کرتا تو خوب پذیرائی ملتی جاننے پر معلوم پڑتا کہ سمجھ
تو کچھ نہیں آیا پذیرائی اس لئے دی کی یار کی بات ہے غلطی کا تو امکان ہی
نہیں یاروں کی یہ معصوم محبت مجھے ہمت دیتی بھی اور توڑتی بھی ۔اس سارے
کچھ میں نجانے کب شوق دھوئیں کے ساتھ اڑ گیا اور شوق کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے
میں دھوئیں کا عادی ہو گیا روز دھوئیں اڑاتا کہ شائد کسی روز کسی دھوئیں کے
ساتھ شوق واپس آ جائے ۔لیکن گیا وقت کب واپس آیا ہے۔یاروں کی محافل میں
،میں نے محسوس کیا ہے کہ یار لوگ عام لوگوں سے ذیادہ حساس ہوتے ہیں ۔سب یار
فرار چاہتے تھے۔ جب ادراک وشعور بیدار ہو جائے تو حساسیت بڑھ جاتی ہے اور
حساسیت چین نہ پائے توفرار اختیار کر نا چاہتی ہے ۔ہم سب مفروری کی اس
زندگی سے خوب لطف اندوز ہو رہے تھے ۔شوق جو دھوئیں میں تحلیل ہو گیا تو
دھواں ہی شوق بن گیا ۔
No comments:
Post a Comment