سحر
لدھیانوی کا یہ مصرعہ ایک روشن کل کی امید ہے ایک ایسی روشن کل جس کی فکر
ہر ذی شعور اور خواب دیکھنے والے کیلئے حسرت و یاس بنتی جا رہی ہے ۔اور یہ
خواب دیکھنے والے ہی ہیں جو آج کی انتہا پرستی اور بنیاد پرستی کے گھٹا ٹوپ
اندھیرے میں بھی ممکنات کا چاند تلاش کرتے ہیں اور چاند ہے کہ معشوقہ کی
طرح نہ ماننے پر بضد۔
آج کے دور میں خواب اور خواب دیکھنے والے دونوں
ہی بہت اہم ہیں کیونکہ دنیا کا حسن ان کے وجود سے ہے اور انہی کے دم سے
حیات کا وجود ہے بلکہ خود کائنات کا وجود ہے یہ خواب ہی ہیں جو انسان کو
زندہ رکھتے ہیں اور عمل پر اکساتے ہیں اور حقیقت کی طرف پیش قدمی میں
معاونت کرتے ہیں وگرنہ انسان بھٹک جائے اور مادیت پرستی کی ایک ایسی دنیا
میں چلا جائے جہاں محض بھیانک خواب ہوں ،پیسے کا خواب، راج کا خواب ،تخت کا
خواب ،تاج کا خواب ،اور ہوس کا خواب، آج ہر شخص انہی خوابوں کے بھنور میں
پھنسا ہوا ہے ۔
تبھی حسین خواب ہم سے روٹھ گئے ہیں تتلیوں کے خواب
،جگنوؤں کے خواب ،محبت کے خواب ، کچے گھڑوں کے خواب ،بدلتے موسموں کے خواب
،نغمہ و ساز کے خواب ،علم و دانش کے خواب ، تخلیق کے خواب ،اور جمالیاتی
ذوق کے خواب۔
خوابوں میں ہوس بیدار ہو جائے تو خواب ٹوٹ جاتے ہیں اور
ٹوٹے ہوئے خواب شعور کیلئے عذاب بن جاتے ہیں ۔درحقیقت منفی یا بھیانک خواب
زندگی کی ترتیب و ربط اور حسن بگاڑنے کیلئے ہیں اور دھرتی کو آب و گیاہ
بنانے کیلئے ہیں ۔
آئیں حسین خوابوں کی بات کرتے ہیں ۔میں بہت چھوٹا
تھا جب جگنوؤں کی جگ مگ میرے وجود و شعور کو روشن کردیتی ۔روشنیوں کا یہ
جزیرہ ،طلسمات کا جہاں ،روشنی کا کلام یہ میرے لئے انمول خواب ہے ۔
پھر
تتلیوں کے خواب جو مجھے کسی پرستاں کی دلکش پریاں محسوس ہوتی تھیں اور
میرا بہت جی چاہتا کہ ان کے ساتھ اڑ جاؤں اور پرستان کی سیر کروں ۔ان سے
کوئی مدھر پرستانی گیت سنوں اور کو ہ قاف کے طلسماتی دجود کو محسوس کروں
اور کائنات کے طلسم کو جاننے کی سعی کروں ایسے حسین خوابوں نے میرے
جمالیاتی ذوق کو بیدار کیا سو میرے لئے یہ بیش بہا قیمتی سرمایہ ہیں ۔
علم و دانش کے خواب جنہوں نے مجھے فلسفہ سے آگہی دی افلاطون و ارسطو کی
منطقی سوچ سے روشناس کرایا ۔دیو مالائی دور کی دلچسب کہانیوں سے لے کر
سائنس کی نت نئی ایجادات سے واقفیت بخشی ،سائنس و آرٹس کے کئے جہاں وا کئے
۔یہ میرے لئے آبِ حیات جیسا تھا کیوں کہ اس سب سے پہلے میں ایک مردہ زندگی
گذار رہا تھا ۔اس مردہ سوچ کو ان علوم نے زندگی عطا کی اور زندگی کو کئی
خزانوں سے مالامال کر دیا خواب جاگتی آنکھوں کے ہوں یا پھر سوئی آنکھوں کے
یکساں اہم ہیں اور ان کا مقصد تعبیر ڈھونڈنا ہے اور خوابوں کی تلاش کا یہ
عمل انسان کو بہت سکھاتا ہے نئے نئے معیارات ،عادات اور شخصیات سے متعارت
کراتا ہے ۔ایسے خوابوں کو روندنے والے بہت ہیں اور دوام دینے
والا
کوئی نہیں ۔زندگی میں بہت سے خواب ہیں ۔رنگ برنگے خواب جن کا حسن آپ کی
شخصیت سے منعکس ہوتا ہے اور جو آپ کو علم و آگہی کی وادی میں لے جاتے
ہیں۔جہاں رنگ ہیں ،پرندے ہیں ،جھرنے ہیں ،پیار ہے ، حسن ہے، نغمہ ہے ،شاعری
ہے، کہانی ہے کردار ہیں
ایسے ہی کئی حسین خواب ہر انسان کے اندر
خوابیدہ ہیں انہیں جگانے یا بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔جب خوابیدہ خواب جاگ
جاتے ہیں تو زندگی آپ کے لئے بھرپور ہوجاتی ہے اور یاسیت و قنوطیت چھٹ جاتی
ہے اور انسان زندگی کے رنگوں کا لطف محسو س کرنے لگتا ہے اس طرح خواب کی
تحریک کا عمل بھی تحریک پکڑ جاتا ہے ۔
آج ہمارے عہد کی نام نہاد عقل
پرستی اور تیز رفتاری نے خواب دیکھنے کے عمل کو بے کیف بنا دیا ہے کیونکہ
عقل ہر شے کو نفع ،نقصان کے ترازو میں تولتی ہے اور اگر نقصان کا تھوڑا بھی
خدشہ ہو تو وہ اپنے قدم روک دیتی ہے ۔اور اس کے بر عکس خواب نفع ، نقصان
سے بے نیاز ہو کر ان دنیاؤں میں لے جاتے ہیں جن کا عقل خوف کے مارے سوچ بھی
نہیں سکتی ۔عقل کی ایک حد ہے اور خواب لامتناہی ۔۔۔لامحدود ۔عقل منطق ہے
اور خواب گیان ۔۔۔۔وجدان ، عقل بنے بنائے فارمولوں کے تابع ہے اور خواب بے
کراں نت نئے معیارات و ایجادات۔
عقل ماورائے عقل تک رسائی نہیں رکھتی
اس لئے انکار کر دیتی ہے ۔اسی لئے ماوراء ایک بھید بن گیا ہے۔اور درحقیقت
ماوراء کے شعور سے محرومی ذات کے شعور سے محرومی ہے ۔
ہمیں لوگوں کو
حسین خواب دکھانے ہوں گے اپنے خواب دوسروں کو دکھانا بہت کٹھن ہے وہی حسین
خواب جو ہم نے دیکھے ہو بہو کسی اور کو دکھانا بہت مشکل کام ہے ۔ لیکن
انسان دوستی کی خاطر ہمیں یہ مشکل سرانجام دینا ہی ہو گا اور یہی ہمارے
خوابوں کا منتہائے مقصود بھی ہے ۔
No comments:
Post a Comment