گیلانی
صاحب جب سے آئے ہیں ایک ہی تان لگائے بیٹھے ہیں اور وہ بھی ان کے شعروں کی
طرح بے سری تان جس میں کومل کی جگہ تیور اور تیور کی جگہ کومل سر لگا دئیے
ہیں ۔سرائیکی تحریک کی تاریخ سے آگہی نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود کو سرایئکی
صوبے کا وارث سمجھ بیٹھے ہیں اور بار بار ایک ہی آلاپ لگا رہے ہیں کہ ان
کو سرایئکی صوبے کی آواز اٹھانے کے جرم کی پاداش میں نااہل کیا گیا ہے
جبکہ ان کی اہلیت اور فکر ودانش روز روشن کی طرح پوری قوم بلکہ پورے عالم
پر عیاں ہیں کہ کس طرح آپ نے اپنے فہم و ادراک سے رعایا کی قسمت بدل دی
اور آپ کی شعر فہمی قوم کےلئے مثال بن گئی کہ اب واقعی ادب مررہا ہے ۔ملک
کے بادشاہ کے شعر شناسی کے اس عالم پر اگر میر و غالب اور اقبال و فیض
حیات بھی ہوتے تو خود کشی کر جاتے ۔
لگتا ہے ہم دیو مالائی دور میں رہ
رہے ہیں جہاں ابھی تک ایسے پیر اپنی گدیوں کے سحر عوام پر طاری کرکے عوامی
حقوق اور امنگوں کا قتل عام کر رہے ہیں جانے کب ان کے جادو ٹونے کا سحر ختم
ہو اور عوام ان کا اصل روپ دیکھ سکے۔
آج گیلانی صاحب کے صاحبزادے
فرماتے ہیں کہ ملک کی عدالت نے گیلانی کو نا اہل قرار نہیں دیا بلکہ اسی
ہزار لوگوں کو نا اہل قرار دیا ہے ۔شائد یہ ان کا سیاسی بچپن ہے وگرنہ
حقائق یہ ہیں
عدالت کے تفصیلی فیصلہ کے مطابق آئینی آرٹیکل 204 میں
عدالت کو یوسف رضا گیلانی کو سزا دینے کا اختیار ہے اور یہ سزا 2003ء کے
توہین عدالت آرڈیننس کے تحت دی گئی، اس پر نااہلی آئین کے آرٹیکل 63 ون جی
کے تحت ہوئی ، یوسف رضاگیلانی ، عدالت کی تضحیک اور توہین کے مرتکب ہوئے ،
سزا پر اپیل نہ آئی اس کی وجہ سے فیصلہ حتمی ہوگیا ، فیصلہ میں کہاگیا ہے
کہ آرٹیکل 63 ون جی کے تحت پارلیمنٹرین ، مجرم ہوجائے تو اسپیکر کا
صوابدیدی اختیار نہیں رہتا،آئینی تقاضا تھا کہ نااہلی کا معاملہ الیکشن
کمیشن کو بھیجا جاتا، ایسا نہ کرکے اسپیکر قومی اسمبلی نے قانونی اختیار سے
تجاوز کیا،عدالت نے قرار دیا کہ پارلیمنٹرین کی اہلیت سے متعلق اسپیکر کے
فیصلہ پر عدالتی نظرثانی ہوسکتی ہے، عوامی عہدے پر غیر قانونی قبضہ ختم
کرنے کیلئے عدالت کو اختیار ہے، اس بارے میں 1960ء کے بعد سے کئی فیصلے
آچکے ہیں،فیصلہ میں لکھا گیاہے کہ نااہل شخص کی طرف سے عہدے پر براجمان
رہنا تشویشناک امر ہے،وزیراعظم خود غیرقانونی اقدام کرے تو باقی ریاستی
مشینری کیسے حکمرانی یا قانون قائم کرے گی،جسٹس جواد خواجہ کا نوٹ ہے کہ
پارلیمنٹ کی خودمختار سے متعلق قدیمی برطانوی تصور ، اب قابل عمل
نہیں،پاکستان میں آئین کو تمام اداروں بشمول پارلیمنٹ، پر برتری حاصل ہے،
آرٹیکل 190،کے تحت تمام ادارے سپریم کورٹ کی معاونت کے پابند ہیں، آئین ،
عوام کی منشا ہے، آئین پر عمل کرنا جمہوریت ہےاب اس پر گیلانی صاحب خفا ہیں
۔
اب ذرا سرائیکی سوبے تحریک کی داستاں ملاحظہ فرمائیں ۔۔ تاریخی
حقائق کے مطابق سرائیکی صوبے کا تصور سب سے پہلے تحریک بحالی صوبہ بہاولپور
کے رہنما ریاض ہاشمی ایڈووکیٹ نے پیش کیااور ساتھ ہی صوبہ سرائیکستان کا
نقشہ بھی پیش کیا اور وہ سرائیکی صوبہ محاذ کی پہلی سینئر نائب صدر تھیں۔
وہ آخری دم تک سرائیکی صوبے کے لئے جدوجہد کرتی رہیں۔
1975 میں ملتان
میں پہلی کل پاکستان علمی ادبی ، سرائیکی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں
سرائیکی وسیب کے تمام علاقوں سے سرایئکی راہنمائوں نوابزادہ مامون الرشید،
بریگیڈیئر نذیر علی شاہ، حاجی سیف اللہ خان اور افضل مسعود خان سمیت
سینکڑوں افراد نے سرائیکی صوبے کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔ 5 اپریل 1984 کو
سرائیکی صوبہ محاذ کا تاسیسی اجتماع قاری نور الحق قریشی نے ملتان میں
منعقدکیا ۔ بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ سرائیکی صوبہ محاذ کے پہلے صدر منتخب
ہوئے جو کہ نہایت مقدم بات تھی اوروہ آج تک یہ جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ سیٹھ
عبید الرحمٰن پہلے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔اسوقت سرائیکی صوبہ محاذ کی
میٹینگز سابق وفاقی وزیر ملک فاروق اعظم کےگھر پر ہوا کرتی تھیں ۔
اس
زمانے میں سابق وفاقی وزیر ملک فاروق اعظم کے گھر پر سرائیکی صوبہ محاذ کے
اجلاس منعقد ہوا کرتے تھے۔علاوہ ازیں احمد پور شرقیہ کے مشہور قانون دان
اکبر علی انصاری پاکستان سرائیکی پارٹی کے تاسیسی اجلاس میں شامل تھے۔ ملک
صدیق سکندر ایڈووکیٹ احمدپور شرقیہ میں افضل مسعود خان کے گھر پر اس کتاب
کی تقریب رونمائی میں موجود تھے جس پر سب سے پہلے باقاعدہ سرائیکی صوبے کا
نقشہ شائع کیا گیا ۔
معروف صحافی ظہور احمد دھریجہ جن کا تعلق خان پور
سے تھا ،نے 80 کی دہائی میں سرائیکستان صوبے کے لیے آواز بلند کی اور
باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیااور آج تک سرائیکی زبان کی ترقی ،سرائیکی ثقافت
کے فروغ اور سرائیکیوں کی شناخت کےلئے سرگرم عمل ہے ان کی علمی اور ادبی
کاوشوں سے پہلا سرائیکی اخبار جھوک شائع ہو اجو اسوقت سرائیکی وسیب کےتین
اضلاع سے بیک وقت شائع ہو رہا ہے اورانہوں اپنی زیست سرائیکی صوبے کےلئے
وقف کر دی ۔ایک اور نامور سرگرم شخصیت عبدالمجید خان کانجو سرائیکی صوبے
کےلئے جن کی کاوشوں کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔عبدالمجید خان
کانجو رحیم یار خاں کے معروف زمیندار اور بزرگ سیاسی راہنماہیں وہ 17 مارچ
1989 کو بہاولپور میں ایک الیکشن میں اے این پی سرائیکستان کے صدر منتخب
ہوئے۔ انتخاب کے روز ہی انہوں نے سرائیکی عوام کے حقوق کی جنگ شروع کر دی
اور اندرون فرید گیٹ ایک شدید اجتجاجی مظاہرہ کیا جس میں سرائیکی صوبے کا
بھرپور مطالبہ کیا گیا اور یہی وہ عبدالمجید خان کانجو تھے جنہوں نے بعد
میں سرائیکی نیشنل پارٹیکی بنیاد رکھی
اور 2 اکتوبر 1998 کو اسلام
آباد میں پونم کے ایک تاریخی چارٹر پر یاداشتی دستخط کیے جس کے تحت
پاکستان کو پانچ قومی صوبوں میں بانٹنےکا تقاضا کیا گیا عبدالمجید خان
کانجو نے اپنی زندگی کے قیمتی پچیس سال سرائیکی صوبے کے لئے وقف کردئیے اور
لاکھوں کروڑوں کے وسائل بھی عطیہ کر دئے
اس کے علاوہ ایک اور قد آور
شخصیت صاحبزادہ محمد دائود خان عباسی ہیں جنہوں نے سرائیکی قومی اتحاد کی
بنیاد رکھی۔ بعد میں اس جماعت کی قیادت کرنل( ر ) عبدالجبار خان عباسی نے
سنبھالی اور سرائیکی وسیب اور سرائیکی جماعتوں میں اتحاد و ہم آہنگی پیدا
کرنے کےلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کی تشکیل کی جسے سرائیکستان نیشنل محاذکے
نام سے جانا جاتا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف سرائیکی صوبے کا حصول تھا
ایک اور عظیم کارکن 95 سالہ مرید حسین راز جتوئی سرائیکی صوبہ تحریک کے
معمر ترین سیاسی کارکن ہیں۔ انکا تعلق بھی خان پور سے ہے۔انہوں نے سرائیکی
زبان اور سرائیکی صوبےکےترویج و قیام کے لئے ہر وقت کوشاں ہیں آپ نے الگ
اور خود مختار سرائیکی صوبے کے لئے ہزاروں خطوط لکھے اور عوامی حلقوں کو
ارسال کئے آج انکے فرزند مجاہد حسین حق و بغاوت کا یہ الم اٹھائے سرائیکی
قومی موومنٹ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں
اگست 1998میں
معروف قوم پرست اجمل خان خٹک کی قیادت میں سرائیکی وسیب کے دیگر قوم پرست
راہنمائوں جن میں مغل اعظم کانجو اور عبدالمجید کانجو نے ملتان میں ایک
معاہدہ کیا جس میں یہ طے پایا کہ سرائیکی جماعتوں کے ساتھ مل کر سرائیکی
صوبے کےلئے اجتماعی جدوجہد کی جائے گی اس موقع پر چار لوگوں کو سرائیکی
راہبر کے لقب سے نوازا گیا جن میں بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ، عبدالمجید
خان کانجو ، حمید اصغر شاہین اور مرزا اعجاز بیگ شامل ہیں
اسکے علاوہ اکتوبر 1998 کو اسلام آباد میں سندھ، بلوچستان، سرائیکی وسیب اور خیبر پختونخواہ ہزاروں راہنمائوں نے پونم کا چارٹر
منظو ر کیا اس چارٹر کی رو سے بہاولپور کو صوبہ سرائیکستاں میں شامل رکھا گیا ۔اس چارٹر کو پاس کرنے والے راہنمائوں میں
اکتوبر 1998 کو اسلام آباد میں سندھ، بلوچستان، سرائیکی وسیب اور خیبر
پختونخواہ کے معروف رہنمایان سید امداد حسین شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، جلال
محمود شاہ، رسول بخش پلیجو ، عطاء اللہ مہنگل، ڈاکٹر عبدالحی، محمود خان
اچکزئی، اجمل خان خٹک، غلام احمد بلور، تاج محمد خان لنگاہ، حمید اصغر
شاہین، ایم اے بھٹہ، میاں منصور کریم سیال، منظور احمد خان بوہڑ، محمد علی
مہدی گردیزی، احمد نواز سومرو، اسد اللہ خان لنگاہ، عبدالمجید خان کانجو، (
رحیم یار خان ) اور کے کے کورائی ( رحیم یار خان ) وغیرہ شامل تھے۔
اپریل 1999 میں پونم سرائیکستان کے زیر اہتمام ملتان قلعہ کہنہ قاسم باغ
پر ایک جلسہ عام ہوا جس میں بہاولپور کے سیاسی کارکنوں نے بھی بھرپور شرکت
کی ۔
ان سب کے ساتھ ایک گراں قدر شخصیت کوٹ سمابہ کے سیاسی کارکن
ریاض حسین کھرل ہیں جنہوں نے اپنی انتھک کاوشوں سے 1997 میں مردم شماری کے
فارم میں سرائیکی زبان کو شامل کرنے کےلئے مسلسل اجتجاج کیا ۔
اس کے
علاوہ کئی اور نام جنہوں نے اپنے شب وروز اس جدوجہد میں وقف کئےان میں بستی
دڑہ جمال ضلع رحیم یار خان کے سیاسی کارکن خالد محمود خان ڈاہا ، احمد پور
شرقیہ کے افضل مسعود خان، محمد اکبر انصاری، شبیر احمد لکھیسر ، ممتاز
عاصم ایڈووکیٹ ،کریم نواز انصاری ،ممتاز حسین جائی ،خواجہ غلام فرید کوریجہ
،ایم اے بھٹہ،علامہ اقبال وسیم ، شبیر احمد لکھیسر اور ریاض حسین
پیرزادہ شامل ہیں اور اس کے علاوہ بہاولپور کے حاجی عبدالمالک نے دھوپ میں
داڑھی سفید نہیں کی بلکہ سرائیکی صوبہ کی جدوجہد میں ان کا یہ حال ہوا۔
عبداللہ ساقی سیال، امتیاز چنڑ، شاکر حسین، قاضی عبدالوحید، رئیس وحید ،
خورشید بخاری، غیور بخاری ، حبیب اللہ خیال، حافظ قادر بخش میتلا، قاضی
عبدالوحید اور ملک اکبر ، رحیم یار خان کے مخدوم رکن الدین عالم ، خواجہ
انور عالم اور خسرو بختیار کوئی عام لوگ نہیں اورنہ ہی ان کے کردار کو
کبھی فراموش کیا جا سکتا ہے۔ سرائیکی صوبے کے لئے ان کی خدمات کلیدی اہمیت
رکھتی ہیں اور ان سب سے بڑھ کر ملتان کی ساجدہ احمد خان لنگاہ بنتِ
سرائیکستان خاتون ہو کر ہمیشہ فعال کردار ادا کیا اور اس جد و جہد میں اب
تک مصروف عمل ہیں یہ ہیں سرائیکی صوبے کے بانی وسچے وارث جنہوں نے اس
تحریک کو اپنے خون سے سینچا ہے ۔
اور آج گیلانی صاحب کہتے ہیں کہ وہ سرائیکی صوبے کے وارث ہیں شائد انجانے میں وہ اس عظیم تحریک کو گدی سمجھ بیٹھے ہیں
No comments:
Post a Comment