Friday, 28 December 2012
سرائیکی وسیب کے جھوٹے وارث
گیلانی
صاحب جب سے آئے ہیں ایک ہی تان لگائے بیٹھے ہیں اور وہ بھی ان کے شعروں کی
طرح بے سری تان جس میں کومل کی جگہ تیور اور تیور کی جگہ کومل سر لگا دئیے
ہیں ۔سرائیکی تحریک کی تاریخ سے آگہی نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود کو سرایئکی
صوبے کا وارث سمجھ بیٹھے ہیں اور بار بار ایک ہی آلاپ لگا رہے ہیں کہ ان
کو سرایئکی صوبے کی آواز اٹھانے کے جرم کی پاداش میں نااہل کیا گیا ہے
جبکہ ان کی اہلیت اور فکر ودانش روز روشن کی طرح پوری قوم بلکہ پورے عالم
پر عیاں ہیں کہ کس طرح آپ نے اپنے فہم و ادراک سے رعایا کی قسمت بدل دی
اور آپ کی شعر فہمی قوم کےلئے مثال بن گئی کہ اب واقعی ادب مررہا ہے ۔ملک
کے بادشاہ کے شعر شناسی کے اس عالم پر اگر میر و غالب اور اقبال و فیض
حیات بھی ہوتے تو خود کشی کر جاتے ۔
لگتا ہے ہم دیو مالائی دور میں رہ
رہے ہیں جہاں ابھی تک ایسے پیر اپنی گدیوں کے سحر عوام پر طاری کرکے عوامی
حقوق اور امنگوں کا قتل عام کر رہے ہیں جانے کب ان کے جادو ٹونے کا سحر ختم
ہو اور عوام ان کا اصل روپ دیکھ سکے۔
آج گیلانی صاحب کے صاحبزادے
فرماتے ہیں کہ ملک کی عدالت نے گیلانی کو نا اہل قرار نہیں دیا بلکہ اسی
ہزار لوگوں کو نا اہل قرار دیا ہے ۔شائد یہ ان کا سیاسی بچپن ہے وگرنہ
حقائق یہ ہیں
عدالت کے تفصیلی فیصلہ کے مطابق آئینی آرٹیکل 204 میں
عدالت کو یوسف رضا گیلانی کو سزا دینے کا اختیار ہے اور یہ سزا 2003ء کے
توہین عدالت آرڈیننس کے تحت دی گئی، اس پر نااہلی آئین کے آرٹیکل 63 ون جی
کے تحت ہوئی ، یوسف رضاگیلانی ، عدالت کی تضحیک اور توہین کے مرتکب ہوئے ،
سزا پر اپیل نہ آئی اس کی وجہ سے فیصلہ حتمی ہوگیا ، فیصلہ میں کہاگیا ہے
کہ آرٹیکل 63 ون جی کے تحت پارلیمنٹرین ، مجرم ہوجائے تو اسپیکر کا
صوابدیدی اختیار نہیں رہتا،آئینی تقاضا تھا کہ نااہلی کا معاملہ الیکشن
کمیشن کو بھیجا جاتا، ایسا نہ کرکے اسپیکر قومی اسمبلی نے قانونی اختیار سے
تجاوز کیا،عدالت نے قرار دیا کہ پارلیمنٹرین کی اہلیت سے متعلق اسپیکر کے
فیصلہ پر عدالتی نظرثانی ہوسکتی ہے، عوامی عہدے پر غیر قانونی قبضہ ختم
کرنے کیلئے عدالت کو اختیار ہے، اس بارے میں 1960ء کے بعد سے کئی فیصلے
آچکے ہیں،فیصلہ میں لکھا گیاہے کہ نااہل شخص کی طرف سے عہدے پر براجمان
رہنا تشویشناک امر ہے،وزیراعظم خود غیرقانونی اقدام کرے تو باقی ریاستی
مشینری کیسے حکمرانی یا قانون قائم کرے گی،جسٹس جواد خواجہ کا نوٹ ہے کہ
پارلیمنٹ کی خودمختار سے متعلق قدیمی برطانوی تصور ، اب قابل عمل
نہیں،پاکستان میں آئین کو تمام اداروں بشمول پارلیمنٹ، پر برتری حاصل ہے،
آرٹیکل 190،کے تحت تمام ادارے سپریم کورٹ کی معاونت کے پابند ہیں، آئین ،
عوام کی منشا ہے، آئین پر عمل کرنا جمہوریت ہےاب اس پر گیلانی صاحب خفا ہیں
۔
اب ذرا سرائیکی سوبے تحریک کی داستاں ملاحظہ فرمائیں ۔۔ تاریخی
حقائق کے مطابق سرائیکی صوبے کا تصور سب سے پہلے تحریک بحالی صوبہ بہاولپور
کے رہنما ریاض ہاشمی ایڈووکیٹ نے پیش کیااور ساتھ ہی صوبہ سرائیکستان کا
نقشہ بھی پیش کیا اور وہ سرائیکی صوبہ محاذ کی پہلی سینئر نائب صدر تھیں۔
وہ آخری دم تک سرائیکی صوبے کے لئے جدوجہد کرتی رہیں۔
1975 میں ملتان
میں پہلی کل پاکستان علمی ادبی ، سرائیکی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں
سرائیکی وسیب کے تمام علاقوں سے سرایئکی راہنمائوں نوابزادہ مامون الرشید،
بریگیڈیئر نذیر علی شاہ، حاجی سیف اللہ خان اور افضل مسعود خان سمیت
سینکڑوں افراد نے سرائیکی صوبے کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔ 5 اپریل 1984 کو
سرائیکی صوبہ محاذ کا تاسیسی اجتماع قاری نور الحق قریشی نے ملتان میں
منعقدکیا ۔ بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ سرائیکی صوبہ محاذ کے پہلے صدر منتخب
ہوئے جو کہ نہایت مقدم بات تھی اوروہ آج تک یہ جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ سیٹھ
عبید الرحمٰن پہلے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔اسوقت سرائیکی صوبہ محاذ کی
میٹینگز سابق وفاقی وزیر ملک فاروق اعظم کےگھر پر ہوا کرتی تھیں ۔
اس
زمانے میں سابق وفاقی وزیر ملک فاروق اعظم کے گھر پر سرائیکی صوبہ محاذ کے
اجلاس منعقد ہوا کرتے تھے۔علاوہ ازیں احمد پور شرقیہ کے مشہور قانون دان
اکبر علی انصاری پاکستان سرائیکی پارٹی کے تاسیسی اجلاس میں شامل تھے۔ ملک
صدیق سکندر ایڈووکیٹ احمدپور شرقیہ میں افضل مسعود خان کے گھر پر اس کتاب
کی تقریب رونمائی میں موجود تھے جس پر سب سے پہلے باقاعدہ سرائیکی صوبے کا
نقشہ شائع کیا گیا ۔
معروف صحافی ظہور احمد دھریجہ جن کا تعلق خان پور
سے تھا ،نے 80 کی دہائی میں سرائیکستان صوبے کے لیے آواز بلند کی اور
باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیااور آج تک سرائیکی زبان کی ترقی ،سرائیکی ثقافت
کے فروغ اور سرائیکیوں کی شناخت کےلئے سرگرم عمل ہے ان کی علمی اور ادبی
کاوشوں سے پہلا سرائیکی اخبار جھوک شائع ہو اجو اسوقت سرائیکی وسیب کےتین
اضلاع سے بیک وقت شائع ہو رہا ہے اورانہوں اپنی زیست سرائیکی صوبے کےلئے
وقف کر دی ۔ایک اور نامور سرگرم شخصیت عبدالمجید خان کانجو سرائیکی صوبے
کےلئے جن کی کاوشوں کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔عبدالمجید خان
کانجو رحیم یار خاں کے معروف زمیندار اور بزرگ سیاسی راہنماہیں وہ 17 مارچ
1989 کو بہاولپور میں ایک الیکشن میں اے این پی سرائیکستان کے صدر منتخب
ہوئے۔ انتخاب کے روز ہی انہوں نے سرائیکی عوام کے حقوق کی جنگ شروع کر دی
اور اندرون فرید گیٹ ایک شدید اجتجاجی مظاہرہ کیا جس میں سرائیکی صوبے کا
بھرپور مطالبہ کیا گیا اور یہی وہ عبدالمجید خان کانجو تھے جنہوں نے بعد
میں سرائیکی نیشنل پارٹیکی بنیاد رکھی
اور 2 اکتوبر 1998 کو اسلام
آباد میں پونم کے ایک تاریخی چارٹر پر یاداشتی دستخط کیے جس کے تحت
پاکستان کو پانچ قومی صوبوں میں بانٹنےکا تقاضا کیا گیا عبدالمجید خان
کانجو نے اپنی زندگی کے قیمتی پچیس سال سرائیکی صوبے کے لئے وقف کردئیے اور
لاکھوں کروڑوں کے وسائل بھی عطیہ کر دئے
اس کے علاوہ ایک اور قد آور
شخصیت صاحبزادہ محمد دائود خان عباسی ہیں جنہوں نے سرائیکی قومی اتحاد کی
بنیاد رکھی۔ بعد میں اس جماعت کی قیادت کرنل( ر ) عبدالجبار خان عباسی نے
سنبھالی اور سرائیکی وسیب اور سرائیکی جماعتوں میں اتحاد و ہم آہنگی پیدا
کرنے کےلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کی تشکیل کی جسے سرائیکستان نیشنل محاذکے
نام سے جانا جاتا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف سرائیکی صوبے کا حصول تھا
ایک اور عظیم کارکن 95 سالہ مرید حسین راز جتوئی سرائیکی صوبہ تحریک کے
معمر ترین سیاسی کارکن ہیں۔ انکا تعلق بھی خان پور سے ہے۔انہوں نے سرائیکی
زبان اور سرائیکی صوبےکےترویج و قیام کے لئے ہر وقت کوشاں ہیں آپ نے الگ
اور خود مختار سرائیکی صوبے کے لئے ہزاروں خطوط لکھے اور عوامی حلقوں کو
ارسال کئے آج انکے فرزند مجاہد حسین حق و بغاوت کا یہ الم اٹھائے سرائیکی
قومی موومنٹ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں
اگست 1998میں
معروف قوم پرست اجمل خان خٹک کی قیادت میں سرائیکی وسیب کے دیگر قوم پرست
راہنمائوں جن میں مغل اعظم کانجو اور عبدالمجید کانجو نے ملتان میں ایک
معاہدہ کیا جس میں یہ طے پایا کہ سرائیکی جماعتوں کے ساتھ مل کر سرائیکی
صوبے کےلئے اجتماعی جدوجہد کی جائے گی اس موقع پر چار لوگوں کو سرائیکی
راہبر کے لقب سے نوازا گیا جن میں بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ، عبدالمجید
خان کانجو ، حمید اصغر شاہین اور مرزا اعجاز بیگ شامل ہیں
اسکے علاوہ اکتوبر 1998 کو اسلام آباد میں سندھ، بلوچستان، سرائیکی وسیب اور خیبر پختونخواہ ہزاروں راہنمائوں نے پونم کا چارٹر
منظو ر کیا اس چارٹر کی رو سے بہاولپور کو صوبہ سرائیکستاں میں شامل رکھا گیا ۔اس چارٹر کو پاس کرنے والے راہنمائوں میں
اکتوبر 1998 کو اسلام آباد میں سندھ، بلوچستان، سرائیکی وسیب اور خیبر
پختونخواہ کے معروف رہنمایان سید امداد حسین شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، جلال
محمود شاہ، رسول بخش پلیجو ، عطاء اللہ مہنگل، ڈاکٹر عبدالحی، محمود خان
اچکزئی، اجمل خان خٹک، غلام احمد بلور، تاج محمد خان لنگاہ، حمید اصغر
شاہین، ایم اے بھٹہ، میاں منصور کریم سیال، منظور احمد خان بوہڑ، محمد علی
مہدی گردیزی، احمد نواز سومرو، اسد اللہ خان لنگاہ، عبدالمجید خان کانجو، (
رحیم یار خان ) اور کے کے کورائی ( رحیم یار خان ) وغیرہ شامل تھے۔
اپریل 1999 میں پونم سرائیکستان کے زیر اہتمام ملتان قلعہ کہنہ قاسم باغ
پر ایک جلسہ عام ہوا جس میں بہاولپور کے سیاسی کارکنوں نے بھی بھرپور شرکت
کی ۔
ان سب کے ساتھ ایک گراں قدر شخصیت کوٹ سمابہ کے سیاسی کارکن
ریاض حسین کھرل ہیں جنہوں نے اپنی انتھک کاوشوں سے 1997 میں مردم شماری کے
فارم میں سرائیکی زبان کو شامل کرنے کےلئے مسلسل اجتجاج کیا ۔
اس کے
علاوہ کئی اور نام جنہوں نے اپنے شب وروز اس جدوجہد میں وقف کئےان میں بستی
دڑہ جمال ضلع رحیم یار خان کے سیاسی کارکن خالد محمود خان ڈاہا ، احمد پور
شرقیہ کے افضل مسعود خان، محمد اکبر انصاری، شبیر احمد لکھیسر ، ممتاز
عاصم ایڈووکیٹ ،کریم نواز انصاری ،ممتاز حسین جائی ،خواجہ غلام فرید کوریجہ
،ایم اے بھٹہ،علامہ اقبال وسیم ، شبیر احمد لکھیسر اور ریاض حسین
پیرزادہ شامل ہیں اور اس کے علاوہ بہاولپور کے حاجی عبدالمالک نے دھوپ میں
داڑھی سفید نہیں کی بلکہ سرائیکی صوبہ کی جدوجہد میں ان کا یہ حال ہوا۔
عبداللہ ساقی سیال، امتیاز چنڑ، شاکر حسین، قاضی عبدالوحید، رئیس وحید ،
خورشید بخاری، غیور بخاری ، حبیب اللہ خیال، حافظ قادر بخش میتلا، قاضی
عبدالوحید اور ملک اکبر ، رحیم یار خان کے مخدوم رکن الدین عالم ، خواجہ
انور عالم اور خسرو بختیار کوئی عام لوگ نہیں اورنہ ہی ان کے کردار کو
کبھی فراموش کیا جا سکتا ہے۔ سرائیکی صوبے کے لئے ان کی خدمات کلیدی اہمیت
رکھتی ہیں اور ان سب سے بڑھ کر ملتان کی ساجدہ احمد خان لنگاہ بنتِ
سرائیکستان خاتون ہو کر ہمیشہ فعال کردار ادا کیا اور اس جد و جہد میں اب
تک مصروف عمل ہیں یہ ہیں سرائیکی صوبے کے بانی وسچے وارث جنہوں نے اس
تحریک کو اپنے خون سے سینچا ہے ۔
اور آج گیلانی صاحب کہتے ہیں کہ وہ سرائیکی صوبے کے وارث ہیں شائد انجانے میں وہ اس عظیم تحریک کو گدی سمجھ بیٹھے ہیں
جمہوریت یا سراب
آج
پاکستان کی طرح تیسری دنیا کا ہر جمہوری ملک الیکشن سے پہلے مخفی یا صریحی
خانہ جنگی ، غلط نظام حکومت ، کرپشن، صحت اور تعلیم کی کمی، نااہل
انتظامیہ اور بے پناہ عوامی مباحثوں میں مبتلا ہے۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان
مسائل اور خود مغربی جمہوریت کے درمیان ایک علتی تعلق موجود ہے۔اس کے
باوجود ممکنہ حد تک ان مسائل کا حل صرف اور صرف جمہوریت میں ہے۔جمہوریت
لوگوں کے ذریعے، خوشحالی، برابری ، شفافیت ، شخصی آزادی اور یکجانیت کیساتھ
متساویت کی جانب مائل کرتی ہے۔ اور اس بات کی شہادت کیلئے کسی ثبوت کی
ضرورت نہیں۔جمہوریت تین بنیادی اصولوں پر محیط ہے ۔
*آپ کو آزادی سے ووٹ دینے کا حق
*آپ کو آزادی سے جمہوری دفاتر چلانے کا حق
* اکثریت کو قانون کے تابع رہ کر حکومت کرنے کا حق
جمہوریت آزادیء اظہار اور لوگوں کو جمہوری عمل کے ساتھ جڑنے کے حق کی
ضمانت دیتی ہے اور اسکی کیا وجہ ہے کہ جمہوریت کو کیوں برابری، کارکردگی
اور خوشحالی کی ضمانت دینی چاہیے۔اس لئے کہ درحقیقت جمہوریت کا اہم ترین
اصول ایک ایسے عمل کو پروان چڑھانا ہے جو آزادی اور خوشحالی کے لئے معاشرے
کی رہنمائی کرے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں کچھ غیر جمہوری قوتوں کی وجہ سے
جمہوری نظام ،متشکک انتخابات، سیاسی غلامی، نابرابری ، نااہلی اور بے
انتہا کرپشن کا شکار رہا ہے ۔لیکن یہ سب کچھ جمہوری اداروں اور جمہوری نظام
کے خلاف ایک نہایت منظم شازش کے تحت ہوا ہے اور یہ سازش ان غیر جمہوری
طاقتوں نے کی ہے جو پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط و مستحکم ہوتا اور پھلتا
پھولتا نہیں دیکھ سکتے۔
جمہوری نظام کی کمزوری کے اہم محرکات :
*نااہلی اور کم مدت منصوبہ بندی
*غیر ذمہ دارانہ رویہ اور سماجی تصادم
*دوسروں کے معاملات میں مداخلت
*مجموعیت اور اطاعت
*کرپشن اور طاقت کا ناجائز استعمال
پاکستان ایک سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں قیام میں آیالیکن اس کے
وجود کو62 برس گذر جانے کے بعد بھی جمہوریت اور جمہوری رویے پروان نہیں
چڑھ سکے اور چڑھیں بھی کیسے پندرہ پندرہ برس یا نو نو برس کے متشدد ، بنیاد
پرست اور غیر جمہوری دورانیوں کے بعد جب تین یا چار جمہوری سالوں پر بے
جاتنقید اور شور وغل شروع ہو جائے تو پھر کیسے جمہوریت پروان چڑھے گی ۔اور
ایسا ہی ایک بار پھر ہو رہا ہے۔
ابھی چار سال ہی گذرے ہیں کہ جمہوریت
کو درپیش خطرات سر اٹھانے لگے ہیں ۔آج جمہوریت اقتصادی ، سماجی، سیاسی اور
بین الااقوامی محاذوں پرکثیر پہلو چیلنجز سے نبرد آزما ہے ۔ پاکستان میں
جمہوریت کی بالا دستی کو قائم رکھنے کیلئے ایک دانشمندانہ سوچ کی ضرورت ہے
جو ہر شہری کے اندر موجود ہونا لازم ہے ۔تبھی یہ نظام مضبوط ہو سکتا ہے
۔تذبذب کے بادل پاکستان کے جمہوری نظام پر منڈلا رہے ہیں ۔ایک اہم خدشہ
متواتر فوجی مداخلت کا ہے جو سیاسی اور جمہوری نظام کو پرورش پانے سے روک
سکتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں جو کہ جمہوریت کی نرسری ہیں خود ابھی جدید اور
جمہوری سطور پر قائم نہیں ۔ موجودہ حالات میں سیاسی لیڈر شپ ایک نا پسندیدہ
گروہ بن گیا ہے ۔ایک عام آدمی کا رحجان سیاسی شخصیات سے ناپسندیدگی کی طرف
بڑھ رہا ہے لیکن وہ سیاسی شخصیات اور سیاسی اداروں میں تفریق نہیں کر
سکتااس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوری اداروں اور نظام کے برقرار رکھنے
کیلئے عام لوگوں میں شعور اجاگر کیا جائے۔
جمہوریت کے استحکام کیلئے
آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ نہایت ضروری ہے لیکن ان کے لئے بھی کچھ اقدار
اور اخلاقیات کی پاسداری کرنا اور جمہوری اداروں کی عزت اور احترام بہت
ضروری ہے۔بدقسمتی سے میڈیا برائے نام اخلاقی اور قانونی حدود کا خیال رکھتا
ہے ۔سوداگری یا تجارت پرستی کبھی کبھار اسے برائے نام صحافت کیلئے ورغلا
دیتی ہے یا مجبور کر دیتی ہے جب میڈیا عوامی اور قومی مفاد ایک طرف رکھ
دیتا ہے اور عوامی رائے قائم کرنے کیلئے حقائق کو مسخ کر کے عوام میں پیش
کرتا ہے معاشرے میں جہاں تعمیری تنقید نے اہم اور مثبت کردار ادا کرنا ہوتا
ہے ۔ وہاں میڈیا کو درست حقائق بیان کرنے ہوتے ہیں جو کہ عموماْ میڈیا
نہیں کرتا اور نتیجہ کے طور پر عوام کے اندر نا مناسب اورنا واجب تنقید اٹھ
کھڑی ہوتی ہے اور عوام غصے میں قانون کی پرواہ کئے بغیر جمہوریت کی بانگ
درا آلاپنے لگتی ہے جبکہ جمہوریت کا ایک اہم پہلو قانون کی بالادستی کو
قائم کرنا بھی ہے شائد محض سروں کی گنتی کو ہی جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے
اور اس کا ذمہ دار میڈیا ہے ۔جمہوریت محض سروں کی گنتی یا انتخاباتی مشق ہی
نہیں بلکہ یہ کچھ اصول و ضوابط کا مجموعہ ہے جسکی بنیاد آزادی، انسانی
تحفظ، برابری اور برداشت کے تصورات پر مبنی ہے ۔انتخابات جمہوریت کا ایک
منشور ہے اور اس انتخابی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ جاگیردارانہ سوچ اور
برادریوں کا ناجائز اثر و رسوخ ہے جو کہ لوگوں کے حق آزادی کو سلب کرنے کے
برابر ہے ۔
عوام کو آزادی سے جمہوری عمل میں شمولیت سے روک دیا گیا ہے
ہمارے ملک میں آج بھی جاگیر دارانہ نظام کسی نہ کسی شکل میں غالب ہے اور
عوام ایک محکوم و مغلوب رعایا کی طرح ان کے حد اختیار میں زندگیاں گذارنے
پر مجبور ہیں ۔اور وہ اس سیاسی اور جمہوری عمل میں کبھی متحرک شرکت دار
نہیں بن سکتے ۔
چھوٹے صوبے وفاق پر اپنا اعتماد کھو چکے ہیں ۔فوج
شاہی اپنے مطالبات اور مفادات کو تر ویج دے رہی ہے اور وہ حقیقی قانونی و
آئینی حقوق سے انکاری ہے۔اگرچہ موجودہ جمہوری حکومت نے بلوچوں سے غیر مشروط
معافی بھی مانگی لیکن کوئی حقیقی اقدامات نہ کئے گئے بلکہ بلوچستان میں
متشدد اورتکلیف دہ عمل جاری رہا جس سے حالات سنگین ہوتے گئے اور آج
بلوچستان کے الگ ہونے کی باتیں ہونے لگی ہیں اس سب کی ذمہ دار جمہوری حکومت
ہے جو اپنے ماتحت اداروں کو تابع نہیں رکھ سکتی اور نتیجے میں ان اداروں
کی طاقت کا بے لگام استعمال قومی انتشار بڑھاتا ہے اور اسکی گندگی پھر
جمہوری حکومت پر گرتی ہے ۔
سیاسی جماعتیں جمہوریت کیلئے ٹھوس بنیادیں
فراہم کرنے اور پارلیمنٹ کو عظیم ادارہ بنانے کیلئے جمہوریت کے بنیادی
ادارے ہیں ۔اس لئے سیاسی جماعتوں کی دوبارہ منظم ہونے اور جماعت کو جمہوری
سطور پر لانا ہوگا اور انہیں عوامی اور مقامی طور پر جماعتی تنظیموں کی
جڑوں کو نچلی سطح پر مضبوط کرنا ہوگا۔اور اسی سطح پر عوامی رابطہ کاری
کیلئے اور سہولیات فراہم کرنے کیلئے رابطہ کاری دفاتر قائم کرنے ہونگے ۔میں
یقین رکھتا ہوں کہ صرف سیاسی جماعتیں ہی سیاسی عمل میں عوام کی بھرپور
شمولیت کو یقینی بنا سکتی ہیں اور جمہوری اقدار کو لوگوں کے دلوں پر نقش کر
سکتی ہیں ۔پاکستان میں جمہوری عمل کی مضبوطی کیلئے سیاسی عمل میں بڑے
پیمانے پر لوگوں کی رضا کارانہ شمولیت ایک ٹھوس بنیاد بن سکتی ہے ۔
پارلیمنٹ ایک عوام کا منتخب کردہ ادارہ ہے جو براہ راست عوام کو جوابدہ ہے
اور کئی دیگر طاقت ور اداروں سے جواب طلب ہے ۔عوام تو اپنے حقوق کیلئے
پارلیمنٹ سے جواب طلب کر رہی ہے لیکن پارلیمنٹ اپنے تابع اداروں سے جواب
طلبی میں مصلحت اور سست روی کا شکار ہے جسکی وجہ ہم سب جانتے ہیں ۔
ایگزیکٹو کو ہر حال قابل احتساب ہونا چاہیے اور تمام فیصلے پارلیمنٹ کو ہی
کرنے چاہیے یہ جمہوریت کو تقویت دے گا ۔عدلیہ ریاست کا نمایاں اور اہم ترین
ستون ہے ۔ایک آزاد ، اہل اور کار گذار عدلیہ ہی سوسائٹی میں سماجی انصاف
کو یقینی بنا سکتی ہے عدلیہ ستم زدہ اور ناراض شہریوں کو ایک پلیٹ فارم
مہیا کرتی ہے تاکہ وہ اپنی شکایات کے حق کو استعمال کر سکیں ۔اگر لوگ تلافی
کیلئے قانونی راستہ اختیار کریں تو غیر قانونی مہم جوئی کے امکان کم ہوتے
ہیں ۔اس لئے آزاد عدلیہ مضبوط جمہوریت کی چابی ہے ۔اس لئے عدلیہ کو چاہیے
کہ وہ جمہوری اداروں اور جمہوری نظام کے استحکام کیلئے اپنا بھرپور کردار
ادا کر ے کیونکہ اسی سے عدلیہ اور قانون کی بالادستی قائم ہو سکے گی ۔
جمہوریت کے استحکام کیلئے سیاسی کارکنان کو اچھی روایات قائم کرنی چاہیے۔
طاقت کی پیاس ، عدم برداشت اور کرپشن نے پاکستان کی سیاست کو طاعون زدہ بنا
دیا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ پرانے رواجوں کو بدلا جائے اور نئی جمہوری
روایات قائم کی جائیں ۔
جمہوری نظام کیلئے سیاسی جماعتوں کو اپنے
ڈھانچوں میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے ۔اس پر کوئی دوسری رائے نہیں کہ
جمہوریت پاکستان کیلئے بدیہی شرط اور نہایت لازم ہے اگر ہم بین الااقوامی
حلقے میں پاکستان کی عزت چاہتے ہیں ۔لیکن گذشتہ 62 برس میں اس نے
اندوہ
گیں توصیف پیش کی ہے اور موجودہ حالات کے خدشات اس منظر کو اور بد تر بنا
رہے ہیں ۔لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس پیچیدہ صورتحال کو بدلنے
کیلئے بہتری کا کوئی دروازہ نہیں ۔تاریخ ثابت کرتی ہے جو قومیں بقاء کی
آرزو رکھتی ہیں انہیں زندگی میں کئی کٹھن مراحل سے گذرنا پڑتا ہے لیکن یہ
سود مند تشہیر اسوقت بہروپ معلوم ہوتی ہے جب منظر عام پر کوئی تبدیلی نہ
آئے اور بات محض نعروں تک رہ جائے۔ ہمارے پاس ان کوہ پیکر مسائل سے
نبردآزما ہونے کیلئے ہمت اور جذبہ موجود ہے بس ہمیں اتحاد، یقین ،نظم اور
راہنمائی کی ضرورت ہے ۔ موجودہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ملک میں موجود تمام
جمہوری طاقتیں اجتماعی سوچ کے ساتھ کوئی ٹھوس اقدامات کریں ۔اور شائد یہی
وقت ہے کہ غیر جانبدارانہ طور پر جمہوریت اور سیاسی نظام کی بقاء کیلئے
عوامی آواز کو سامنے لایا جائے ۔
کیا خبر کوئی مار دے مجھے کافر کہہ کر
ڈر
اور خوف انسان کی فطرت میں ہے ۔انسان نے جب آنکھ کھولی تو اپنے ارد گرد
آدم خور درندوں کو پایا ۔اور وہ اکیلا آدم ان درندوں سے خود کو محفوظ رکھنے
کیلئے کئی تدبیریں سوچتا رہا اور اس طرح اس نے اپنے ہی جیسے انسانوں کو
ڈوھونڈنا شرو ع کردیابہت تگ و دو کے بعد اسے اپنے جیسی کوئی مخلوق ملی تو
اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور اس طرح اس آدم ذات نے ایک قبیلے یا سوسائٹی
کی بنیاد رکھی جس میں ایک فرد کی ضرورتیں دوسرے فرد سے جڑی تھیں اور وہ
انسان ایک دوسرے کو عزت،محبت اور تحفظ فراہم کرتے تھے ۔ایک قبیلہ یا سو
سائٹی بنا لینے کے بعد انسان نے خود کو انتہائی محفوظ محسوس کیا اور اسی
احساس کے باعث ان قبیلوں اور سوسائٹیوں کا دائرہ کار بھی بڑھتا گیا ۔
لیکن آج کا انسان پھر خوفزدہ ہے اور خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے لیکن
اب خوف آدم خور درندوں کا نہیں بلکہ اپنے ہی انسانوں کا ہے جو اپنی انتہا
پسند نظریات اور مذہبی جنونیت کی وجہ کسی بھی طرح سے آدم خور درندوں سے کم
نہیں ۔ اور اس پر ظلم تو یہ کہ وہ اس درندگی کا انسانوں کی سوسائٹیوں میں
کھلے عام مظاہرہ کرتے پھر رہے ہیں اور ہم بے بس، لاچار اور مجبور انسان خوف
کی خاموش تصویر بنتے جا رہے ہیں۔
گذشتہ دنوں گورنر سلمان تا ثیرکے
ہونے والے بہیمانہ قتل نے جہاں ماحول کو سوگوار کیا ہے وہی کچھ سوال بھی
چھوڑے ہیں ؟ جن کا جواب شائد گردشِ حالات اور سیاسی بیانات کی نذر ہو جائے
گا۔
1927سے لیکر 1986 تک توہین رسالت کے صرف سات کیس سامنے آئے لیکن
ضیا الحق کے دور میں ہونے والے ترامیم 295B اور 295C کے بعد 1986 سے اب تک
1058 مقدمات درج ہو چکے ہیں جن میں 60% غیر مسلم اور 40% مسلمان شامل ہے۔
بلاِ سفیمی لاء کی بھینٹ چڑھنے والوں میں اکثریت معصوم بے گناہ غیر مسلموں کی ہے ۔
کبھی 84 سالہ بوڑھے عیسائی والٹر فضل خان کے زمین سستے داموں فروخت نی
کرنے کے جرم میں پھسایا جاتا ہے تو کبھی گوجرہ میں انسانوں کو زندہ جلایا
جاتا ہے۔۔۔۔۔اپریل 2009 میں چار احمدی طالب علم بچے بھی اس قانون کی نذر ہو
چکے ہیں ۔۔۔۔کوٹری سٹی کا رہائشی 29 سالہ محنت کش ستار مسیح بھی لقمہ اجل
بن چکا ہے۔ ۔۔۔۔۔کبھی بچوں کی لڑائی مذہبی لڑائی میں بدل جاتی ہے تو سلامت
مسیح چار عیسائی لوگوں سمیت اس قانون کا نشانہ بنتا ہے۔۔۔۔کبھی 55 سالہ
مستاق ظفر کو اس جرم کے الزام میں قتل کر دیا جاتا ہے تو کبھی 35 سالہ نسیم
بی بی پولیس کے گینگ ریپ کے بعد اس قانون کا شکار بنائی جاتی ہے اوراسکا
ٹرائل شروع ہونے سے پہلے حوالات میں ہی قتل کر دیا جاتا ہے ۔اسی طرح 20 اور
معصوم اور بے گناہ لوگوں کو ان قوانین کے الزام میں عدالتی کاروائی کے
بجائے قتل کردیا گیا۔ اور اب ایک اور غیر مسلم غریب بھٹہ مزدور آسیہ بی بی
کو اس کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اور جب انسان دوست گورنر سلمان تاثیر نے معصوم
آسیہ بی بی کی ہمدردی میں حق بات کہی اوراس قانون کو کالا قانون کہا تو
اسے بھی توہینِ رسالت کا مجرم قرار دے کر قتل کر دیاگیا۔اتنے سارے بے گناہ
انسانوں کو نگل جانے والاقانون کالا ہے یا سفید اس کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے
وہ نبی ﷺ جس نے پتھر کھا کر لوگوں کو دعائیں دی کوڑے کا ڈھیر پھینکے والی
بوڑھیا کی تیمہ دارہ کی آج اس کی خاطر ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں جو سراسر
اسکی تعلیمات کے منافی ہے میرے نقطہ نظر سے توہین رسات کا مرتکب گورنر
نہیں بلکہ وہ قادری ہے ۔کیونکہ اس نے ایسا عمل کیا ہے جو رسول پاک کے خدا
کی نظر میں نہایت ناپسندیدہ فعل ہے۔
مذہبی سیاسی قوتیں جو اپنی پروہت
کی دوکان چمکانے کیلئے پہلے ہی تیار بیٹھے تھیں اس موقعہ سے پورا پورا
فائدہ اٹھایا اور معصوم لوگوں کو گمراہ کرکے ایسے اندھاروں میں دھکیل دیا
جہاں محبت، امن اور تحفظ کی کرن ایک خواب بن کر رہ گئی۔وہ خود کو ایک مثبت
متبادل کے طور پر پیش کرنے لگے جن کے پاس مفادپرستی اور انتہا پسندی کے
علاوہ محنت کش طبقے اور عوام کیلئے کوئی معاشی و معاشرتی ایجنڈا نہیں۔
قرآن پاک کے پارہ نمبر 5 سورۃ نمبر 4 سورۃ النسا آیت نمبر 93 میں واضح ارشاد ہے۔
اور جو انسان ایک مومن کو ارادتاْ نیت کرکے قتل کرے تو اُس گناہ کی سزا
جہنم ہے اور وہ ہمیشہ اس میں رہے گا ،اللہ کا غضب اس پر ہوگا اور اس پر
اللہ کی لعنت ہو گی اور اللہ نے اس قاتل کیلئے ایک عظیم عذاب تیار کیا
ہوگا۔
اس کے علاوہ اسلام میں قتل کو پانچواں عظیم گناہ قراردیا گیا ہے
اور ہمارے اس معاشرے میں اس جرم میں مرتکب ایک شخص کے استقبال میں سلامی
پیش کی جاتی ہے اور پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں۔خدا اس پر لعنت بھیج رہا
ہے اور ہم شاباش دے رہے ہیں ۔گورنر کو تو گستاخِ رسول کہہ کر قتل کر دیا
گیا اور یہ جو اتنے سارے گستاخِ خدا ہیں ان کو کیا سزا دی جائے۔
قرآنِ پاک میں ایک اور جگہ پارہ نمبر 6 سورۃ نمبر5 سورۃ المائدہ آیت نمبر32 میں ارشاد فرمایا ہے
جس نے ایک انسان کا قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا
جتنا والہانہ استقبال ہم ایک قاتل کا کر رہے ہیں مستقبل میں ہمارے بچے
ڈاکڑ،انجینئر اور استاد نہیں بلکہ قاتل بننا پسند کریں گے یہ ہے ہمارا
مستقبل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ہر باشعور،پڑھا لکھا اور دانشور اس ملک کو
چھورنا چاہتا ہے ۔کیا اپنے بچوں کو ان انتہا پسندوں کے حوالے کرنا درست ہے
یقیناًنہیں ۔بے شک ترقی پسند طبقہ کمزور ہے اور تقسیم کا شکار ہے لیکن مجھے
یقین ہے کہ اس شدت پسندی کے خلاف یہ طبقہ ضرور منظم ہو گا۔کیونکہ یہی طبقہ
انتہا پسندی کے اندھاروں میں ایک مشعل بن سکتا ہے۔
ۤۤائو کہ کوئی خواب بنیں کل کے واسطے
سحر
لدھیانوی کا یہ مصرعہ ایک روشن کل کی امید ہے ایک ایسی روشن کل جس کی فکر
ہر ذی شعور اور خواب دیکھنے والے کیلئے حسرت و یاس بنتی جا رہی ہے ۔اور یہ
خواب دیکھنے والے ہی ہیں جو آج کی انتہا پرستی اور بنیاد پرستی کے گھٹا ٹوپ
اندھیرے میں بھی ممکنات کا چاند تلاش کرتے ہیں اور چاند ہے کہ معشوقہ کی
طرح نہ ماننے پر بضد۔
آج کے دور میں خواب اور خواب دیکھنے والے دونوں
ہی بہت اہم ہیں کیونکہ دنیا کا حسن ان کے وجود سے ہے اور انہی کے دم سے
حیات کا وجود ہے بلکہ خود کائنات کا وجود ہے یہ خواب ہی ہیں جو انسان کو
زندہ رکھتے ہیں اور عمل پر اکساتے ہیں اور حقیقت کی طرف پیش قدمی میں
معاونت کرتے ہیں وگرنہ انسان بھٹک جائے اور مادیت پرستی کی ایک ایسی دنیا
میں چلا جائے جہاں محض بھیانک خواب ہوں ،پیسے کا خواب، راج کا خواب ،تخت کا
خواب ،تاج کا خواب ،اور ہوس کا خواب، آج ہر شخص انہی خوابوں کے بھنور میں
پھنسا ہوا ہے ۔
تبھی حسین خواب ہم سے روٹھ گئے ہیں تتلیوں کے خواب
،جگنوؤں کے خواب ،محبت کے خواب ، کچے گھڑوں کے خواب ،بدلتے موسموں کے خواب
،نغمہ و ساز کے خواب ،علم و دانش کے خواب ، تخلیق کے خواب ،اور جمالیاتی
ذوق کے خواب۔
خوابوں میں ہوس بیدار ہو جائے تو خواب ٹوٹ جاتے ہیں اور
ٹوٹے ہوئے خواب شعور کیلئے عذاب بن جاتے ہیں ۔درحقیقت منفی یا بھیانک خواب
زندگی کی ترتیب و ربط اور حسن بگاڑنے کیلئے ہیں اور دھرتی کو آب و گیاہ
بنانے کیلئے ہیں ۔
آئیں حسین خوابوں کی بات کرتے ہیں ۔میں بہت چھوٹا
تھا جب جگنوؤں کی جگ مگ میرے وجود و شعور کو روشن کردیتی ۔روشنیوں کا یہ
جزیرہ ،طلسمات کا جہاں ،روشنی کا کلام یہ میرے لئے انمول خواب ہے ۔
پھر
تتلیوں کے خواب جو مجھے کسی پرستاں کی دلکش پریاں محسوس ہوتی تھیں اور
میرا بہت جی چاہتا کہ ان کے ساتھ اڑ جاؤں اور پرستان کی سیر کروں ۔ان سے
کوئی مدھر پرستانی گیت سنوں اور کو ہ قاف کے طلسماتی دجود کو محسوس کروں
اور کائنات کے طلسم کو جاننے کی سعی کروں ایسے حسین خوابوں نے میرے
جمالیاتی ذوق کو بیدار کیا سو میرے لئے یہ بیش بہا قیمتی سرمایہ ہیں ۔
علم و دانش کے خواب جنہوں نے مجھے فلسفہ سے آگہی دی افلاطون و ارسطو کی
منطقی سوچ سے روشناس کرایا ۔دیو مالائی دور کی دلچسب کہانیوں سے لے کر
سائنس کی نت نئی ایجادات سے واقفیت بخشی ،سائنس و آرٹس کے کئے جہاں وا کئے
۔یہ میرے لئے آبِ حیات جیسا تھا کیوں کہ اس سب سے پہلے میں ایک مردہ زندگی
گذار رہا تھا ۔اس مردہ سوچ کو ان علوم نے زندگی عطا کی اور زندگی کو کئی
خزانوں سے مالامال کر دیا خواب جاگتی آنکھوں کے ہوں یا پھر سوئی آنکھوں کے
یکساں اہم ہیں اور ان کا مقصد تعبیر ڈھونڈنا ہے اور خوابوں کی تلاش کا یہ
عمل انسان کو بہت سکھاتا ہے نئے نئے معیارات ،عادات اور شخصیات سے متعارت
کراتا ہے ۔ایسے خوابوں کو روندنے والے بہت ہیں اور دوام دینے
والا
کوئی نہیں ۔زندگی میں بہت سے خواب ہیں ۔رنگ برنگے خواب جن کا حسن آپ کی
شخصیت سے منعکس ہوتا ہے اور جو آپ کو علم و آگہی کی وادی میں لے جاتے
ہیں۔جہاں رنگ ہیں ،پرندے ہیں ،جھرنے ہیں ،پیار ہے ، حسن ہے، نغمہ ہے ،شاعری
ہے، کہانی ہے کردار ہیں
ایسے ہی کئی حسین خواب ہر انسان کے اندر
خوابیدہ ہیں انہیں جگانے یا بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔جب خوابیدہ خواب جاگ
جاتے ہیں تو زندگی آپ کے لئے بھرپور ہوجاتی ہے اور یاسیت و قنوطیت چھٹ جاتی
ہے اور انسان زندگی کے رنگوں کا لطف محسو س کرنے لگتا ہے اس طرح خواب کی
تحریک کا عمل بھی تحریک پکڑ جاتا ہے ۔
آج ہمارے عہد کی نام نہاد عقل
پرستی اور تیز رفتاری نے خواب دیکھنے کے عمل کو بے کیف بنا دیا ہے کیونکہ
عقل ہر شے کو نفع ،نقصان کے ترازو میں تولتی ہے اور اگر نقصان کا تھوڑا بھی
خدشہ ہو تو وہ اپنے قدم روک دیتی ہے ۔اور اس کے بر عکس خواب نفع ، نقصان
سے بے نیاز ہو کر ان دنیاؤں میں لے جاتے ہیں جن کا عقل خوف کے مارے سوچ بھی
نہیں سکتی ۔عقل کی ایک حد ہے اور خواب لامتناہی ۔۔۔لامحدود ۔عقل منطق ہے
اور خواب گیان ۔۔۔۔وجدان ، عقل بنے بنائے فارمولوں کے تابع ہے اور خواب بے
کراں نت نئے معیارات و ایجادات۔
عقل ماورائے عقل تک رسائی نہیں رکھتی
اس لئے انکار کر دیتی ہے ۔اسی لئے ماوراء ایک بھید بن گیا ہے۔اور درحقیقت
ماوراء کے شعور سے محرومی ذات کے شعور سے محرومی ہے ۔
ہمیں لوگوں کو
حسین خواب دکھانے ہوں گے اپنے خواب دوسروں کو دکھانا بہت کٹھن ہے وہی حسین
خواب جو ہم نے دیکھے ہو بہو کسی اور کو دکھانا بہت مشکل کام ہے ۔ لیکن
انسان دوستی کی خاطر ہمیں یہ مشکل سرانجام دینا ہی ہو گا اور یہی ہمارے
خوابوں کا منتہائے مقصود بھی ہے ۔
جنسی تکمیل (مضمون)
آج جب ہم یہ کہتے ہیں کہ انسانی شعور نے ترقی کر لی ہے اور ہم ایک تہذیب یافتہ اور تعلیم یافتہ نسل کے باشندے ہیں اور ہم نے ترقی کے
کئی جہاں فتح کرلئے ہیں اور دنیا جہاں کی معلومات ہماری مٹھی میں ہیں
۔لیکن کچھ معاملات میں ہمارا علم اور شعور ابھی بھی نا پختہ ، تنگ نظر اور
قدامت پرست ہے ۔
نجانے کیوں ہم کچھ الفاظ کو اپنے تصورات کے معانی پہنا
کر لطف بے لذت محسوس کرتے ہیں ایسا ہی ایک لفظ ،سیکس یا جنس ہے جسکو سنتے
ہی ہمارے خیالات میں ایک بھونچال سا آجاتا ہے اور ہمارا وجود ٹوٹنے لگتا ہے
۔اور کچھ لوگ تو اس لفظ ہی کو گناہ عظیم گردانتے ہیں۔ تصورات میں گندگی
پیدا ہو جائے تو الفاظ مجرم بن ہی جاتے ہیں۔چاہے اس سے جو بھی مراد لیا جا
رہا ہو ہمارے ذہن میں صرف اس کا ایک ہی معنی ہے۔۔۔۔۔یقیناًآ پ سمجھ گئے ہوں
گے۔
انسان کی زندگی کے کئی پہلو ہیں کئی حسین و لطیف پہلو جو فطرت کا
عکس ہیں اور ان سے منعکس ہونے والے رنگ ہماری زیست کو تروتازہ رکھے ہوئے
ہیں ۔ایسا ہی ایک اہم پہلو جنسی و تولیدی صحت کا ہے جس کی ضرورت آنے والے
وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ جنسی و تولیدی
مسائل بڑھتے جا رہے ہیں جس سے بے راہ روی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔آج ہمارے
معاشرے کو اس پر جس قدر سنجیدہ سوچ بچار کرنے کی اور تبادلہ خیال کرنے کی
ضرورت ہے اس سے پہلے نہ تھی لیکن غیر سنجیدگی ، بنیاد پرستی اور قدامت
پرستی کی وجہ سے موضوع پر بات کرنا ناممکن ہو گیا ہے اور اہم ترین جنسی
مسئلے کو شجر ممنوع قرار دے دیا گیا اور اگر کسی نے اسے چھو لیاتو اس جرم
کی پاداش میں اسے جنت سے نکال دیا گیا اور اس پر عذاب نازل کئے گئے اورجنت
سے دھتکارے جانے کے خوف سے کئی انسانوں نے لاعلمی کے اندھیرے اپنا لئے یا
غلاف اوڑھ لئے اس جاہلانہ روش کی وجہ سے انسانوں کی جنسی و تولیدی صحت کئی
خطرات سے دوچار ہے خاص طور پر نوجوانوں کی صحت کیونکہ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب
لہو کے ہر قطرے میں سنسی پیدا ہو رہی ہوتی ہے اور اس کے جسم میں کئی
تبدیلیاں رونما ہو رہی ہوتی ہیں لڑکپن سے بلوغت کا مرحلہ نہایت نازک مرحلہ
ہے کیونکہ اس میں کئی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں گردن کا موٹا ہونا، بانہوں
کے پٹھوں میں اینٹھن سی پیدا ہونا، کنٹھ نکل آنا ،سینے پر گوشت کی تہہ کا
موٹا ہونا اور پستانوں میں گولیاں سی بن جانا، احتلام و حیض کا آنا،
ماہواری کا شروع ہو جانا یہ حیاتیاتی تبدیلیاں نوجوانوں میں تکلیف دہ سر
سراہٹ کے ساتھ ساتھ کئی نئے احساسات کو بھی جنم دیتی ہیں ۔اگر ان حالات میں
اس کی درست راہنمائی نہ کی جائے تو وہ بھٹک سکتا ہے اور ایک عجیب قسم کی
آوارگی اس کے دماغ میں سریت کرسکتی ہے جو اس کیلئے تباہ کن ہو سکتی ہے۔کچی
عمر کے خوابوں کی تعبیر کا جوش زندگی بھر کا روگ بن جاتا ہے۔اس لئے خوابوں
کو درست سمت دینا اور معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ کر نا ہماری ذ مہ د اری ہے
۔جس کو والدین اور استاتذہ بخوبی سر انجام دے سکتے ہیں ۔
جس طرح بھوک اور پیاس ایک فطری جبلت ہیں اسی طرح سیکس بھی ایک فطری جبلت ہے اور آدمیت کے ارتقا ء و آغاز کا باعث ہے
ایک طرف طاقتور جنسی طلب کی تسکین اورپھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خلد سے بے دخل کئے
جانے کا خوف لیکن غلطی تو آدم کی سرشست میں ہے اور وہ غلطی کر بیٹھتا ہے
۔اور خاص طور پر ان حالات میں جب اسے کوئی راہنمائی کرنے والا ہی نہ ہو
۔حقائق سے آنکھ مچولی کا کھیل آگہی کی منازل سے دور لے جاتا ہے اور انسان
انہی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتا ہے ۔جنسی تکمیل و شناخت کو کھلی آنکھ سے
قبول کرنے میں ہی آفیت ہے وگرنہ جنسی بے راہروی شدت اختیار کر جائے گی
۔جنسی تغیرات کا علم و شعور ہمیں اس بے راہروی اور بے جا پریشانی سے نجات
دلا سکتا ہے اوراس طرح ایک صحت مند معاشرہ قائم ہو سکتا ہے ۔معلومات تک
رسائی میں کمی کی وجہ سے بعض اوقات نوجوان تخلیق کے عظیم مقصد کو بھلا کر
گناہ بے لذت سے دوچار ہوتے ہیں جنس اگر انسان کے دماغ میں گھس جائے تو
جنسیت بن جاتی ہے جو انسان کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے ان غیر فطری عوامل کی
وجہ سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کئی قسم کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں ۔اس
دوران بعض اوقات لڑکیاں حاملہ ہو جاتی ہیں اور معاشرتی قدامت پرستی اور
بنیاد پرستی کے خوف سے وہ اسے چھپانا چاہتی ہے اور اس طرح وہ مقامی دائیوں
یا پریکٹیشنرز کی خدمات حاصل کرتی ہیں اور غیر محفوظ اور غیر مناسب مراحل
سے گذرتی ہیں جس سے یا تو موت واقع ہوتی ہے یا پھر تولیدی صحت کے مسائل
پیدا ہو جاتے ہیں جو ان کی زندگی میں کئی الجھاؤ پیدا کرسکتے ہیں ۔اسکے
علاوہ اگر شادی شدہ جوڑے میں غیر متوقع حمل ہو جائے تو اسے زائل کرانے میں
بھی کئی قباحتیں ہیں اور عموما ایسے معاملات میں پیشہ ور ڈاکٹرز بھی پروہت
کاری کا مظاہر ہ کرتے ہیں سہولیات اور معلومات سے عدم دستیابی کے باعث
انسان اور خصوصا نوجوان مختلف قسم کی جنسی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں ۔غیر
محفوظ جنسی طریقہ استعمال سے انسانی تو لیدی صحت متاثر ہو رہی ہے اور
نوجوان مختلف بیماریوں کا شکار ہیں ۔جن میں ایچ،آئی ،وی ایڈز ،ہیپا ٹائٹس
بی ،
(کیلی میڈیا )طفیلی جرسومہ جوکے اندھے پن یا بانچھ پن کا باعث بھی
بن سکتا ہے ۔اسکے علاوہ آتشک جوکہ ایک جلدی بیماری ہے ، اور خارش کی وجہ
سے پھیلتا ہے ایک اور خطرناک مرض سوزاک جو مرد نوجونوں میں عام ہے اس سے
عضو تناسل میں جلن ،پیپ اور خون آنے لگتا ہے ،
ہرپس(جلد کو کھا جانے والا زخم)ہے جو عموما منشیات کرنے والوں غربت و خوارک کی کمی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے ایک اہم مرض ہے اور
مرض خبیثہ کا پھوڑاجو سوفٹ کینسر کا باعث ہے ۔ان تمام خطرناک مسائل کے با
وجود ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے جس سے پیچیدگیاں بڑھتی جا رہی
ہیں ۔
تولیدی صحت کے مسئلہ کو خاطر خواہ توجہ نہ دینے کی وجہ سے زچہ
بچہ کی اموات کی روک تھام کوئی غیر معمولی فرق نہیں پڑا آج بھی پاکستان میں
روزانہ 89 اموات واقع ہو رہی ہیں اورغیر مناسب اقدامات کی وجہ سے ہم یہ
قیمتی زندگیاں گنوانے پر مجبور ہیں ۔ہماری ریاست کئی بین الااقوامی
کانفرنسوں میں اتفاق رائے سے یہ تسلیم کر چکی ہے کہ نوجوانوں اور بالغوں کی
خصوصی ضروریات کو پورا کیا جائے گا لیکن معاملہ تسلیم اور آمادگی سے ذیادہ
آگے بڑھ نہیں سکا۔خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے کے باعث نوجوانوں کی صحت بری
طرح متاثر ہو رہی ہے لیکن ریاست اس پر کوئی پالیسی وضع کرنے میں بری طرح
ناکام ہے ۔
میرے بارے میں۔۔۔
He did his masters in Philosophy and had experience
with qualification in media, research, grassroots social work, poet, writer and
deep analytical studies in BPL.
He had good sense for poetry, art, culture and
sciences. As, he belongs from Multan, he is proud for his background as
colorful culture, wisdom, love and romance for feeling and inspiration.
The basic element in his personality is pain for
society which makes him a philosopher and a social worker. This pain gives his
philosophy of life a new direction of love and romance. Now, he feels love for
the persons totally ignorant for their identification, no Identity cards, no
education no home and without basics of life. This philosopher and poet becomes
their leader and refuse for regular life luxuries like others. He stays with
them and spends time with them to understand what causes and reasons are existing
to make them satisfy this brutal and vicious life.
Now, he was spending time with them, making movies
of them and trying to deliver his knowledge but he was feeling, there is still
need to do more.
With media, he has experience of more than five
years as Deputy Director, Concept Developer and Script writer in many
productions. He did these
particular media exercises e.g.
Work as Creative Asst. Director & Script writer
and Concept Developer from 2006 in Jigger’s Vision Production and did a lot.
He did more than eighteen years work on, Mother and
Child Health Program, Education for Rural Development Program, Democratic
Process for Women Program, Peace and Inter-Faith Harmony Program, Cultural
Heritage Program, Social Mobilization, Group, Formation and Capacity Building Program,
Mass Awareness Campaign for Peace, Sustainable Agriculture and Farmers Rights
Program, Gender Sensitization Program, Grass Root Democracy Program and
Community Physical Infrastructure Development Programs etc.
He delivers
his services in these lines and directions;
- Social Marketing
- All type of Correspondence.
- Facilitating the appointment of individuals to the project delivery teams
- Ensuring that the delivery of new products or services from the projects is to the appropriate levels of quality, on time and within budget, in accordance with the Program plan and Program governance arrangements
- Ensuring that there is efficient allocation of common resources and skills within the project portfolio
- Managing both the dependencies and the interfaces between projects
- Managing risks to the Program, mitigation and successful outcome
- Initiating suitable actions and other management interventions wherever gaps in the Programs are identified or issues arises
- Reporting progress of the program at regular intervals to the program officerss
- Facilitate and coordinate M&E unit
- Build coordination with Government institution
- Conducted Skill Development Training Workshops on (Conceptualization of Development, Participatory Development, Report writing, Leadership skills, Local Resource Mobilization, Participatory Proposal Writing and Technical Skill Enhancement Training Workshops on Health, Education, Environmental projects Panning, Entrepreneurship Development, Net working and Advocacy Skills with CBOs, NGOs and Local Government’s representatives
Subscribe to:
Comments (Atom)